واشنگٹن: امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو محکمہ انصاف کی جانب سے ریاستوں کی ووٹر فہرستوں کا وفاقی امیگریشن ریکارڈ سے تقابل کرنے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وفاقی جج اسپارکل سوکنانن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ پالیسی کے ذریعے وفاقی حکومت عملی طور پر یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کن شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ انتخابی اہلیت کے معاملات میں ریاستوں کا کردار قانون کے تحت طے کیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق محکمہ انصاف نے مختلف ریاستوں سے ووٹر فہرستوں کی تفصیلی معلومات طلب کی تھیں اور انہیں وفاقی امیگریشن ڈیٹابیس SAVE سے ملا کر بعض افراد کے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ حکام کا موقف تھا کہ اس سے نااہل ووٹروں کی شناخت ممکن ہوگی، لیکن درخواست گزاروں نے اس عمل کو درست ووٹروں کے حق رائے دہی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
عدالت کا فیصلہ نگران تنظیم کامن کاز کی جانب سے دائر قانونی چیلنج کے حق میں آیا۔ جج نے اپنی 78 صفحات کی رائے میں اس خطرے پر زور دیا کہ امیگریشن ڈیٹابیس میں غیر تازہ یا غلط معلومات ہونے کے باعث ایسے امریکی شہری بھی شک کی زد میں آ سکتے ہیں جو قانونی طور پر ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ یہ خدشہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ کسی شخص کا نام جانچ میں سامنے آنا اس کی انتخابی نااہلیت کا قطعی ثبوت نہیں ہوتا۔
اس قانونی تنازع کا پس منظر 3 نومبر 2026 کو متوقع امریکی وسط مدتی انتخابات ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وفاقی سطح پر انتخابی قواعد کی نگرانی بڑھانے کے اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہے، جبکہ ناقدین ان اقدامات کو ریاستوں کی قانونی ذمہ داریوں میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی قانون میں انتخابات سے 90 دن پہلے بڑے پیمانے پر ووٹر فہرستوں کے مخصوص جائزوں پر بھی پابندیاں موجود ہیں۔
فیصلے میں محکمہ انصاف کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ووٹر فہرستوں کی ہر قسم کی درستگی یا ریاستی سطح پر اہل ووٹروں کی جانچ ممنوع ہوگئی ہے۔ متعلقہ عدالتی کارروائی میں وفاقی اختیار، ریاستی ذمہ داری اور اہل شہریوں کے ووٹ کے حق کے درمیان قانونی حدود کو مرکزی اہمیت دی گئی۔
موجودہ خبر 9 اکتوبر کے عدالتی فیصلے کی تصدیق کرتی ہے، تاہم اس کے خلاف ممکنہ اپیل یا بعد کی عدالتی کارروائیوں کے نتائج دستیاب رپورٹ کا حصہ نہیں تھے۔ حتمی عملی صورت حال مزید قانونی کارروائی اور انتخابی اداروں کے اقدامات کے مطابق سامنے آئے گی۔
