پاناما سٹی: وسطی امریکی ملک پاناما کے جنوبی ساحلی علاقے کے قریب 9 اکتوبر کو ایک طاقت ور زلزلہ آیا جس کی شدت امریکی ارضیاتی سروے نے 7.7 بتائی۔ رائٹرز کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 12.6 کلومیٹر تھی اور اس کے نتیجے میں بعض رہائشی و تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ فوری دستیاب معلومات کے مطابق عالمی تجارت کے اہم راستے پاناما کینال کی سرگرمیوں پر زلزلے کا اثر نہیں پڑا۔

زلزلے کا مرکز صوبہ ہریرا کے نسبتاً کم آبادی والے علاقے میں لا پیتالوزا کے قریب بحرالکاہل کے ساحل کے نزدیک بتایا گیا۔ ہریرا کے علاقے لاس میناس کے ایک رہائشی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے گھر میں دراڑیں پڑ گئیں اور انہیں عمارت کے محفوظ رہنے کی فکر ہے۔ مختلف مقامات پر آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے جھٹکے ہمسایہ ملک کوسٹا ریکا کے دارالحکومت سان ہوزے تک محسوس ہونے کی اطلاع ہے۔

پاناما کے شہری تحفظ کے ادارے کے سربراہ عمر اسمتھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہریرا کے شہر چترے اور صوبہ لاس سانتوس کے ساحلی علاقوں میں اثرات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی اخبار کی ویڈیوز میں پینونومے شہر میں ایک تاریخی عمارت کے برج اور رہائشی عمارت کی بعض بالکونیوں کو نقصان دکھایا گیا۔ دارالحکومت پاناما سٹی میں میٹرو کی دو لائنوں پر حفاظتی بنیادوں پر سروس عارضی طور پر معطل کی گئی، جبکہ وزارت تعلیم نے ملک بھر میں اسکول بند کرنے کا حکم دیا۔

زلزلے کے بعد امریکی سونامی وارننگ نظام نے پاناما، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایکواڈور، پیرو، نکاراگوا، گوئٹے مالا، ایل سلواڈور اور میکسیکو کے ساحلوں کے لیے ممکنہ خطرناک لہروں سے متعلق انتباہ جاری کیا۔ ہوائی کے لیے بھی ممکنہ خطرے کا ذکر کیا گیا، جبکہ چلی کی بحریہ نے الگ سونامی الرٹ جاری کیا۔ انتباہ جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان تمام ساحلوں پر تباہ کن لہریں بالفعل پہنچ چکی تھیں۔

پاناما میں اس شدت کے زلزلے کم ہوتے ہیں۔ واقعے نے قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کی اہمیت کو ایک بار پھر واضح کیا ہے، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں رہائشی آبادیوں کے ساتھ عالمی اہمیت کی تجارتی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ فوری رپورٹ میں مجموعی جانی نقصان کی مصدقہ تعداد نہیں دی گئی، اس لیے اس بارے میں کوئی غیر تصدیق شدہ دعویٰ شامل نہیں کیا جا رہا۔ حکام کی مزید جانچ سے عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور بنیادی خدمات کی بحالی کی تفصیلات واضح ہوں گی۔