نئی دہلی: عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بھارت میں آن لائن صحافتی مواد کو ہٹانے اور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں لگانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق 2026 کے آغاز سے صحافت سے متعلق مواد کی ہٹائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ نئی ضابطہ جاتی تبدیلیوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بعض حکومتی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے لیے دستیاب وقت نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ، جو ڈان نے دس اکتوبر کو شائع کی، کے مطابق فروری میں نافذ ہونے والے قواعد نے پلیٹ فارمز کو رپورٹ کردہ مواد ہٹانے کے لیے دی گئی مدت 36 گھنٹے سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی۔ آر ایس ایف کا مؤقف ہے کہ اس مختصر وقت میں کمپنیوں کے لیے ہر حکم کے قانونی اور صحافتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ صحافتی مواد سے متعلق کسی پابندی سے پہلے مناسب انسانی اور قانونی جانچ کی جائے۔
آر ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صحافت، مبینہ پولیس تشدد سے متعلق طالب علم کی شکایت اور ایک بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے کے لیے مقامی آبادی کی نقل مکانی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس جیسے موضوعات پر سوشل میڈیا مواد ہٹانے کی مثالیں بیان کیں۔ یہ مثالیں تنظیم کے مشاہدات اور دعووں پر مبنی ہیں، انفرادی معاملات کی مکمل قانونی صورتحال رپورٹ میں یکساں طور پر واضح نہیں کی گئی۔
نئی دہلی میں ڈیجیٹل آزادیوں کے لیے کام کرنے والے ادارے سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر نے آر ایس ایف کو بتایا کہ 2026 میں صحافیوں یا میڈیا اداروں کے اکاؤنٹس روکنے یا مواد ہٹانے کے کم از کم چالیس واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ادارے کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے زیر استعمال ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ مارچ سے جولائی کے دوران حکومت نے ساہیوگ پورٹل کے ذریعے تقریباً دو لاکھ مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے، جبکہ اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 تک ایسی درخواستوں کی تعداد 2,312 بتائی گئی۔ اعداد مختلف مدتوں پر محیط ہیں، اس لیے ان کا تقابل اسی احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ساہیوگ پورٹل بھارتی وزارت داخلہ نے اکتوبر 2024 میں شروع کیا تھا، جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان مواد سے متعلق درخواستوں کا نظام بنانا تھا۔ ناقدین کے مطابق درخواست کی بنیاد، متعلقہ حکام کی شناخت اور اپیل کے طریقہ کار کی شفافیت ناکافی ہونے سے صحافیوں کے لیے فیصلوں کو چیلنج کرنا مشکل ہوتا ہے۔
آر ایس ایف نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ صحافت کو متاثر کرنے والی من مانی درخواستیں روکی جائیں، پابندیوں کی قانونی بنیاد واضح کی جائے اور آزادانہ جائزے کی ضمانت ہو۔ تنظیم نے میٹا، ایکس اور دوسرے پلیٹ فارمز سے بھی کہا ہے کہ صحافیوں اور نیوز اداروں سے متعلق درخواستوں کی انسانی اور قانونی جانچ کریں۔ رپورٹ میں کشمیر کے بعض بڑے میڈیا اداروں کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔ یہ معاملہ اظہارِ رائے، ڈیجیٹل ضوابط اور قانونی نگرانی کے درمیان توازن سے متعلق وسیع بحث کا حصہ ہے۔
