بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری ریڈیو پاکستان اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی پنجگور کے پروم علاقے میں افغان کوہ کے مقام پر کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے جنہیں سرکاری ذرائع نے دہشت گرد قرار دیا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک افراد کے قبضے سے جدید ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ آزاد ذرائع سے ہلاک افراد کی شناخت اور کارروائی کی تمام تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں، اس لیے ان دعوؤں کی نسبت سرکاری اور سکیورٹی ذرائع ہی کی طرف کی جا رہی ہے۔

سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ کارروائی بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی مہم ’رد الفتنہ 3‘ کے تحت کی گئی۔ حکام نے متعلقہ مسلح عناصر کے لیے ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح بھی دہرائی اور کارروائی کو صوبے میں جاری سکیورٹی آپریشنز کا حصہ قرار دیا۔ حکومت ماضی میں بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے بیرونی سرپرستی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے؛ ایسے الزامات کو متعلقہ فریقوں کے موقف اور آزاد شواہد سے الگ رکھتے ہوئے سرکاری دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ پیش رفت ایک روز قبل بلوچستان میں ہونے والی دیگر کارروائیوں کے بعد سامنے آئی، جن میں سرکاری ذرائع نے مزید سات دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ موجودہ خبر کا بنیادی واقعہ پنجگور کے پروم علاقے کی کارروائی ہے اور اسے گزشتہ کارروائیوں سے الگ واقعے کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری اہداف کے خلاف حملوں کے تناظر میں انسداد دہشت گردی آپریشنز میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی کارروائی میں ہلاکتوں، وابستگیوں اور بیرونی معاونت سے متعلق تفصیلات کی حتمی تصدیق باضابطہ تحقیقات اور قابلِ جانچ شواہد سے ہوتی ہے۔ فی الحال دستیاب تصدیق شدہ رپورٹنگ سرکاری ذرائع کے اس بیان تک محدود ہے کہ پنجگور میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران چار مبینہ دہشت گرد ہلاک اور اسلحہ برآمد ہوا۔