لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف اور اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ بورڈ کے 31 اگست 2026 کے اعلان کے مطابق ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو موجودہ دورے سے ریلیز کر دیا گیا ہے، جبکہ وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے برمنگھم ٹیسٹ میں ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

پی سی بی نے سات کھلاڑیوں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو بھی اسکواڈ سے ریلیز کرکے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ امام الحق بائیں پنڈلی میں کھچاؤ کے باعث دستیاب نہیں تھے، تاہم بورڈ کے اعلامیے میں باقی کھلاڑیوں کے لیے الگ الگ طبی، تادیبی یا انتخابی وجوہ بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے تمام تبدیلیوں کو سزا یا مستقل اخراج قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ان کی جگہ صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرافات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران المعروف عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ صائم ایوب اور عبداللہ فضل پہلے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں، جبکہ عرافات منہاس محدود اوورز کی بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ سعد بیگ وکٹ کیپر بیٹر ہیں، محمد عمران جونیئر بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اور محمد عمران رندھاوا و رضا اللہ پیس بولنگ آل راؤنڈرز ہیں۔

کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی بھی اسی اعلان کا حصہ ہے۔ سرفراز احمد اپریل 2026 میں ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر ہوئے تھے۔ اب مائیک ہیسن، جو پہلے ہی پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں، تیسرے ٹیسٹ کے لیے ریڈ بال ذمہ داری سنبھالیں گے۔ عمر گل کی جگہ آسٹریلوی کوچ ایشلے نوفکے بولنگ یونٹ کے ساتھ کام کریں گے۔ پی سی بی نے اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تقرریاں صرف آخری ٹیسٹ تک محدود ہیں یا بعد کے ٹیسٹ پروگرام تک جاری رہیں گی۔

تبدیلیاں پاکستان کی ابتدائی دو میچوں میں بھاری شکستوں کے بعد کی گئی ہیں۔ انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 103 رنز سے جیتا، جبکہ لارڈز میں دوسرے میچ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست ہوئی۔ ان نتائج کے ساتھ میزبان ٹیم تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر چکی ہے۔ پاکستان کی چاروں مکمل اننگز میں مجموعہ 200 رنز تک نہیں پہنچا۔

تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ تازہ اعلان کے بعد بابراعظم کپتان برقرار ہیں۔ نظرثانی شدہ اسکواڈ میں بابراعظم، عبداللہ فضل، عبداللہ شفیق، عرافات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، محمد علی، محمد عمران، محمد عمران جونیئر، محمد غازی غوری، رضا اللہ، سعد بیگ، صائم ایوب، ساجد خان، سعود شکیل، شان مسعود اور عبید شاہ شامل ہیں۔

نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام افراد لازماً پلیئنگ الیون کا حصہ ہوں گے۔ حتمی ٹیم کا انتخاب پچ، فٹنس، تربیتی سیشن اور ٹیم انتظامیہ کی حکمت عملی کے مطابق میچ سے قبل ہوگا۔ اسی طرح ریلیز کیے گئے کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں آئندہ واپسی کے بارے میں بورڈ نے کوئی مستقل فیصلہ جاری نہیں کیا۔

پی سی بی کے اقدام نے ٹیم کی بیٹنگ، وکٹ کیپنگ، فاسٹ بولنگ اور آل راؤنڈ آپشنز میں ایک ساتھ تبدیلی کی ہے۔ بورڈ کے اعلان میں فوری مقصد آخری ٹیسٹ کے لیے دستیاب گروپ کو ازسرنو متوازن کرنا بتایا گیا، مگر ان فیصلوں کی کارکردگی کا حقیقی جائزہ ایجبسٹن میں انتخاب اور میچ کے نتیجے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت سات کھلاڑیوں اور دو کوچز کی موجودہ اسکواڈ سے ریلیز، سات متبادل کھلاڑیوں کی شمولیت اور مائیک ہیسن و ایشلے نوفکے کو تیسرے ٹیسٹ کی ذمہ داری دینا ہے۔ کسی کھلاڑی پر بدعنوانی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی یا مستقل پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔