پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی انڈر 19 کرکٹرز کے لیے پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو تسلسل دینے اور انہیں مالی طور پر زیادہ مستحکم ماحول فراہم کرنے کی سمت ایک اہم انتظامی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان انڈر 19 کے ہیڈ کوچ شاہد انور اور ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس اقدام پر پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شاہد انور نے کہا کہ انگلینڈ کے دورے میں نوجوان کھلاڑیوں کی نمایاں کارکردگی کے بعد پی سی بی چیئرمین نے انہیں مدعو کیا اور انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے حوصلہ افزائی کی۔ کوچ کے مطابق انڈر 19 سطح پر پہلی بار سینٹرل کنٹریکٹس کا اجرا نوجوانوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مزید تحریک دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اچھی کارکردگی پر انعام اور ادارہ جاتی سرپرستی سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
قومی انڈر 19 کپتان فرحان یوسف نے ملتان میں منعقد ہونے والے ترقیاتی کیمپوں کو بھی مفید قرار دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ان کیمپوں سے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا اور پی سی بی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات بھی نوجوان کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزا تجربہ رہی۔
آلیان سلمان نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹس ملنے سے کھلاڑی زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی توجہ کھیل پر مرکوز کر سکیں گے۔ جہانگیر بلال کے مطابق مالی معاونت کا ایک عملی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نوجوان کھلاڑی اپنے خاندانوں کی مدد کر سکیں گے۔ رضوان اللہ نے اس فیصلے کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انعامات اور معاہدوں کے اعلان سے ٹیم کے نوجوان ارکان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے جونیئر کرکٹ ڈھانچے میں ایک نئی پالیسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں معاہدوں کی تعداد، مالی مالیت، مدت یا مختلف کیٹیگریز کی تفصیلات نہیں دی گئیں، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں مزید معلومات پی سی بی کی باضابطہ دستاویزات یا آئندہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔ موجودہ طور پر تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ بورڈ نے انڈر 19 سطح پر پہلی بار مرکزی معاہدوں کا نظام متعارف کرایا ہے اور ٹیم انتظامیہ و کھلاڑیوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
