پشاور: صوبائی دارالحکومت کے مضافات میں انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کی ایک کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور تین اہلکار زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں ایک مبینہ دہشت گرد بھی مارا گیا۔ واقعہ 24 ستمبر کو گڑھی شیرداد کے علاقے میں ورسک روڈ کے قریب پیش آیا۔
ایک سینئر سی ٹی ڈی افسر نے ڈان کو بتایا کہ محکمے کو علاقے میں مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد چھاپہ مار ٹیم تشکیل دے کر کارروائی کی گئی۔ افسر کے مطابق سی ٹی ڈی ٹیم جیسے ہی متعلقہ مقام پر پہنچی تو مسلح افراد نے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔ بعد میں خیبر پختونخوا پولیس نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک اہلکار کی شہادت اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے جواب میں ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے بھی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ و کلیئرنس سرگرمیاں شروع کیں۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے نتیجے میں ایک "بڑا دہشت گرد منصوبہ" ناکام بنایا گیا، تاہم اس مبینہ منصوبے کی نوعیت، ممکنہ ہدف یا دیگر تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں۔
ہلاک مبینہ حملہ آور کی شناخت اور تنظیمی وابستگی سے متعلق مکمل تفصیلات بھی ابتدائی رپورٹ میں موجود نہیں تھیں۔ اسی لیے اسے پولیس کے دعوے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ زخمی اہلکاروں کی طبی حالت سے متعلق بھی محدود معلومات سامنے آئی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی اور مزید مشتبہ افراد کی تلاش جاری رہنے کی اطلاع دی گئی۔
پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسند حملوں کا سامنا رہا ہے۔ صوبے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز بھی جاری ہیں، جن میں حکام مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں اسی روز رپورٹ ہونے والی ایک الگ سکیورٹی کارروائی سے مختلف ہے۔ گڑھی شیرداد کی کارروائی پشاور کے مضافات میں سی ٹی ڈی کی مخصوص چھاپہ مار کارروائی تھی، جس میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر ہلاک شخص کی شناخت، مبینہ منصوبے کی نوعیت اور آپریشن کے حتمی نتائج زیادہ واضح ہو سکیں گے۔

