پشاور: صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے گڑھی شیرداد، ورسک روڈ کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے ایک سینئر افسر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ میں ایک مبینہ دہشت گرد بھی مارا گیا۔

سی ٹی ڈی افسر کے مطابق محکمے کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملی تھی، جس کے بعد چھاپہ مار کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ان کے مطابق ٹیم کے موقع پر پہنچتے ہی مسلح افراد نے چھاپہ مار پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان ہوا۔

افسر نے بتایا کہ واقعے کے دوران ایک پولیس اہلکار جان سے گیا اور دو زخمی ہوئے۔ اسی تبادلے میں ایک مبینہ دہشت گرد کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی۔ ڈان کی ابتدائی رپورٹ کے وقت فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موقع پر پہنچ چکے تھے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔

یہ معلومات بنیادی طور پر سی ٹی ڈی کے سینئر اہلکار کے بیان پر مبنی ہیں۔ ہلاک مبینہ دہشت گرد کی شناخت، زخمی اہلکاروں کی حالت اور کارروائی میں شامل دیگر افراد سے متعلق مکمل تفصیلات ابتدائی رپورٹ میں دستیاب نہیں تھیں۔ اسی لیے واقعے کے ان پہلوؤں کو حتمی نتیجے کے بجائے سرکاری بیان کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پشاور اور اس کے گردونواح میں سی ٹی ڈی نے رواں ماہ بھی متعدد کارروائیاں کیں۔ ڈان کے مطابق اس سے پہلے شمساتو اور بڈھ بیر کے علاقوں میں الگ کارروائیوں کے دوران متعدد مبینہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔

گڑھی شیرداد کا واقعہ اس جاری سیکیورٹی دباؤ کی تازہ مثال ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس اطلاعات پر چھاپے مار رہے ہیں اور بعض مواقع پر شدید مسلح مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر ہلاک شخص کی شناخت، آپریشن کے نتائج اور زخمی اہلکاروں کی طبی حالت واضح ہونے کی توقع ہے۔