اسلام آباد: اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیاں مقامی ریفائنریز پر تقریباً 49 روپے فی لیٹر تک منفی مالی اثر ڈال سکتی ہیں اور اربوں ڈالر کے اپ گریڈیشن منصوبوں کی مالی قابلیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ 49 روپے کا تخمینہ صنعت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، اسے حکومت کی تسلیم شدہ حتمی مالی لاگت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے حکومت کو لکھے گئے مراسلے میں کہا کہ پری وار پریمیم اور دیگر ضمنی اخراجات کو موٹر اسپرٹ کے قیمت فارمولے میں شامل کرنے کے فیصلے سے ریفائنریز کو تقریباً 35 روپے فی لیٹر نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں سے مزید 14 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی جانب منتقل کیے جانے سے مجموعی منفی اثر 49 روپے فی لیٹر بن سکتا ہے۔
اٹک ریفائنری کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے مالی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ اس پالیسی میں 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی رقم کو مخصوص ریفائنری اکاؤنٹس میں رکھنے کا تصور شامل تھا تاکہ اپ گریڈیشن منصوبوں کے اخراجات کا ایک حصہ پورا کیا جا سکے۔ کمپنی نے کہا کہ اس رقم کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پالیسی کی اصل ترغیب کمزور ہوگی۔
ریفائنری شعبہ اس وقت اندازاً 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی مالی اداروں سے فنڈنگ پر بات چیت کر رہا ہے۔ چار ریفائنریز نے 24 ستمبر 2026 کو اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کیے تھے جبکہ پارکو کی پروگرام میں شمولیت متوقع بتائی گئی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد موجودہ تنصیبات کو جدید بنانا، آپریشنل کارکردگی بہتر کرنا اور زیادہ معیاری پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنا ہے۔
اٹک ریفائنری نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ 30 اکتوبر کو متعارف کرائی گئی تبدیلی سے پہلے صنعت سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔ کمپنی کے مطابق اپ گریڈیشن پالیسی میں منصوبوں کے نفاذ کے دوران منفی پالیسی تبدیلیوں سے تحفظ کی یقین دہانی اہم تھی، کیونکہ بینک اور سرمایہ کار اسی مالی فریم ورک کی بنیاد پر منصوبوں کی قابلِ عمل حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں۔
کمپنی نے حکومت سے فیصلہ فوری طور پر دوبارہ دیکھنے اور ریفائنریز کے ساتھ مشاورت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مرحلے پر رپورٹ صنعت کے مالی خدشات اور اٹک ریفائنری کے تخمینے پر مبنی ہے؛ یہ ثابت شدہ نتیجہ نہیں کہ تمام ریفائنریز کو لازماً 49 روپے فی لیٹر کا حقیقی نقصان ہوگا۔ حتمی اثر کا دارومدار حکومتی قیمت فارمولے کے نفاذ، ڈیوٹی اور لیوی کے عملی انتظام اور متعلقہ ریفائنریز کی مصنوعات و مالی ساخت پر ہوگا۔

