پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کی حراستوں سے متعلق متعدد درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کے عبوری حکم کے بعد اپنی کاز لسٹوں سے ہٹا دی ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ نوعیت کے مقدمات میں پشاور ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روکا۔
عدالتی فہرستوں میں شامل معاملات میں صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی سے وابستہ افراد کی حراستوں کو چیلنج کرنے والی درخواستیں بھی شامل تھیں۔ غیر فعال خیبرپختونخوا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حراست سے متعلق درخواست بھی ان مقدمات میں شامل بتائی گئی جنہیں سماعت کی فہرست سے نکال دیا گیا۔
یہ اقدام کسی درخواست کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ کاز لسٹ سے مقدمہ ہٹانے کا مطلب یہ ہے کہ مقررہ تاریخ پر متعلقہ بینچ اس کی سماعت نہیں کرے گا، جبکہ اصل قانونی تنازع اور درخواست گزاروں کے دعوے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی نوعیت اور اس کے دائرہ کار کے مطابق آئندہ عدالتی کارروائی کا راستہ طے ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں سیاسی اور انتظامی صورت حال سے متعلق مقدمات حالیہ عرصے میں مختلف عدالتی فورمز پر زیر بحث رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے حراستوں اور ممکنہ ہنگامی اقدامات کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے گئے، جبکہ ریاستی اداروں کے اقدامات کو آئینی و قانونی دائرے میں پرکھنے کی استدعا کی گئی۔ موجودہ مرحلے پر پشاور ہائیکورٹ نے ان نکات پر کوئی نیا حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے restraining order کے بعد مقدمات کو فہرست سے ہٹانا عدالتی دائرہ اختیار اور متوازی کارروائی سے متعلق احتیاطی قدم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وفاقی آئینی عدالت متعلقہ مقدمات میں کیا ہدایات دیتی ہے اور آیا پشاور ہائیکورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت دوبارہ مقرر ہوتی ہے یا نہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو درخواستوں کے خارج ہونے یا زیر حراست افراد کے حق یا مخالفت میں کسی عدالتی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
