اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور ارکان کو دیے گئے سفری الاؤنس، مراعات، دیگر ادائیگیوں اور اجلاسوں پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی جائیں۔ کمیشن نے یہ حکم صحافی سعدیہ مظہر کی اپیل پر جاری کیا اور قومی اسمبلی سیکرٹری کو 13 زیر التوا سوالات کے واضح اور مخصوص جواب 10 دن میں دینے کی ہدایت کی۔

ڈان کے مطابق انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان اور چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا کہ معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2017 کے تحت مانگی گئی معلومات کے سوال نمبر 2 سے 14 تک مکمل جواب فراہم کیے جائیں۔ کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے 19 نومبر کو مزید کارروائی مقرر کی ہے۔

درخواست گزار نے 21 جون کو قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹیوں کے جنوری 2025 سے اب تک کے کام اور مالی اخراجات سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔ درخواست میں قائمہ اور ذیلی کمیٹیوں کی فہرست، منعقدہ اجلاسوں کی تعداد، ان اجلاسوں پر مجموعی اخراجات، کمیٹی ارکان اور چیئرمینوں کو ادا کیے گئے سفری الاؤنس اور قانون سازوں کو ملنے والی مراعات، سہولتوں اور دوسری ادائیگیوں کی تفصیل مانگی گئی تھی۔ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر 5 جولائی کو پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا گیا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کارروائی کے دوران اپنے جوابات جمع کرائے، تاہم درخواست گزار کے مطابق قائمہ کمیٹیوں کی فہرست سے متعلق پہلے سوال کے سوا باقی 13 سوالات کا مطلوبہ جواب نہیں دیا گیا۔ کمیشن نے سیکرٹریٹ کے جوابات اور قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کا جائزہ لینے کے بعد تسلیم کیا کہ خاصی پارلیمانی معلومات آن لائن موجود ہیں، لیکن یہ مواد درخواست میں اٹھائے گئے مخصوص سوالات کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔

کمیشن نے اپنے حکم میں اصول واضح کیا کہ سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ معلومات کی درخواستوں کا معروضی اور مخصوص جواب دیں، چاہے متعلقہ موضوع پر کچھ معلومات پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود ہوں۔ اس فیصلے کی بنیاد معلومات تک رسائی کے قانونی حق پر ہے، جس کے تحت پاکستانی شہری مطلوبہ ریکارڈ کی مناسب شناخت کے ساتھ سرکاری ادارے سے معلومات مانگ سکتے ہیں۔

یہ حکم پارلیمانی مالی شفافیت کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ اس میں صرف عمومی بجٹ یا ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے بجائے کمیٹی سطح پر اخراجات اور ارکان کو ہونے والی ادائیگیوں کی مخصوص تفصیل طلب کی گئی ہے۔ اب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی تعمیل کا جائزہ 19 نومبر کی کارروائی میں لیا جائے گا؛ اس مرحلے پر کمیشن نے معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے، کسی مالی بے ضابطگی کا فیصلہ یا نتیجہ اخذ نہیں کیا۔