پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے صوبے سے متعلق بعض معاملات میں کارروائی روکنے کے حکم کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاقی انتظام، سیاسی رہنماؤں کی حراستوں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق متعدد درخواستیں اپنی کاز لسٹوں سے ہٹا دی ہیں۔ عدالتی فہرستوں میں تبدیلی کے نتیجے میں وہ مقدمات مقررہ تاریخوں پر سماعت کے لیے پیش نہیں ہوں گے جن پر اعلیٰ عدالتی فورم کا restraining order لاگو سمجھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثر ہونے والے مقدمات کی تعداد ایک سو سے زائد ہے اور ان میں صوبے کی آئینی و انتظامی صورتحال کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے ساتھ پی ٹی آئی سے وابستہ افراد کی حراستوں کے خلاف دائر درخواستیں بھی شامل ہیں۔ غیر فعال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حراست یا ان کے ٹھکانے سے متعلق درخواست بھی ہٹائی گئی فہرستوں میں شامل بتائی گئی ہے۔

یہ اقدام مقدمات کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت کے عبوری عدالتی حکم کے عملی اثر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس لیے کاز لسٹ سے کسی درخواست کا ہٹایا جانا اس درخواست کے قانونی نکات کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ متعلقہ فریقوں کے حقوق اور مقدمات کی آئندہ سمت اعلیٰ عدالت کے احکامات اور بعد کی عدالتی کارروائی سے متعین ہوگی۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال کے باعث ان مقدمات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ مختلف درخواست گزاروں نے صوبائی انتظام، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف اقدامات اور آئینی اختیارات کے استعمال سے متعلق سوالات عدالت کے سامنے رکھے تھے۔ اب پشاور ہائیکورٹ نے اپنی سماعتی فہرستیں وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے مطابق ترتیب دی ہیں۔

قانونی طور پر اہم فرق یہ ہے کہ موجودہ پیش رفت کسی گرفتاری کو درست قرار دینے، کسی شخص کو رہا کرنے یا صوبائی انتظام کے بارے میں حتمی آئینی فیصلہ سنانے کے مترادف نہیں۔ فی الحال صرف یہ واضح ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ درخواستوں پر سماعت آگے بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے انہیں کاز لسٹ سے نکال دیا ہے۔ آئندہ کارروائی وفاقی آئینی عدالت کے مزید احکامات اور متعلقہ مقدمات میں اختیار کیے جانے والے قانونی راستے پر منحصر ہوگی۔