جنوبی وزیرستان: اپر جنوبی وزیرستان کی تحصیل سراروغہ کے جنتا علاقے میں پولیس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اسسٹنٹ ہیڈ عبدالجبّار ایک دیسی ساختہ بارودی آلہ ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران دھماکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہو گئے۔ ضلعی پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جائے وقوع سے شواہد جمع کیے گئے ہیں۔

اپر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر اشفاق خان نے بتایا کہ عبدالجبّار علاقے میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنانے میں مصروف تھے کہ دھماکا ہوا۔ انہیں شدید چوٹیں آئیں اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اہلکار اس سے پہلے اسی مقام پر نصب ایک بارودی آلہ کامیابی سے ناکارہ بنا چکے تھے، تاہم دوسرے آلے کو غیر مؤثر بنانے کے دوران وہ پھٹ گیا۔

پولیس ذرائع نے شبہ ظاہر کیا کہ دوسرا آلہ ممکنہ طور پر بم ڈسپوزل ٹیم کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا گیا تھا، لیکن اس پہلو کو ابھی حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا گیا اور واقعے کے حالات کی تفتیش جاری ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد سراروغہ تھانے کے ایس ایچ او پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچے، علاقے کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔

اسی روز لوئر جنوبی وزیرستان کے توئی خُلہ بازار میں بھی ایک الگ واقعہ پیش آیا جہاں پولیس اہلکاروں کے بیٹھنے کی جگہ کے قریب برقع پوش نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر دستی بم پھینکا۔ پولیس کے مطابق دستی بم پھٹ نہیں سکا اور مشتبہ شخص موقع سے فرار ہو گیا۔ اس کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔ دونوں واقعات کو الگ الگ تفتیشی معاملات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں اضافے نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش بڑھائی ہے۔ بارودی مواد کو ناکارہ بنانے والے اہلکار ایسے علاقوں میں خاص طور پر بلند خطرے کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ انہیں ممکنہ طور پر متعدد یا ثانوی دھماکا خیز آلات سے نمٹنا پڑتا ہے۔

عبدالجبّار کی ہلاکت کی تصدیق ضلعی پولیس افسر کے بیان سے ہوئی ہے، تاہم دوسرے بارودی آلے کے نصب کیے جانے کے مقصد اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں پولیس کا بیان ابھی شبہے اور تحقیقات کی سطح پر ہے۔ کسی گروہ کی ذمہ داری یا تفتیش کے حتمی نتیجے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے ایسے دعووں کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔