کراچی: سندھ پولیس نے پاک کالونی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر فیصل گل کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کے بعد معطل کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر ایس ایچ او اور ایک پولیس کانسٹیبل کی ایک ایسے شخص سے گفتگو سنائی دیتی ہے جسے پولیس نے منشیات فروشی سے منسلک قرار دیا ہے۔ ریکارڈنگ کی آزادانہ تکنیکی تصدیق ابھی باقی ہے، اس لیے اس کے مندرجات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا رہا۔

پولیس کے مطابق معطلی کا حکم ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی سید اسد رضا نے جاری کیا۔ محکمانہ حکم میں کہا گیا ہے کہ 5 نومبر کو ایک آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں ایس ایچ او فیصل گل اور ایک پولیس کانسٹیبل کی مبینہ طور پر کاشف عرف دادا نامی شخص کے ساتھ غیر مجاز اور نامناسب نوعیت کی گفتگو شامل تھی۔ حکم میں مذکور شخص کو معروف منشیات فروش قرار دیا گیا ہے، تاہم یہ پولیس کا مؤقف ہے اور کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ محکمے نے آڈیو کی حقیقت جانچنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تکنیکی جانچ کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوگا کہ آیا گردش کرنے والی ریکارڈنگ اصل ہے، اس میں کسی قسم کی ترمیم ہوئی ہے یا نہیں، اور آوازوں کی نسبت درست طور پر متعلقہ افراد سے کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

معطلی کے حکم میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایس ایچ او نے قانون کی عملداری کو متاثر کیا، مبینہ طور پر ایک ملزم کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی اور اپنے ماتحت اہلکار کو اس شخص سے معافی مانگنے کی ہدایت کی۔ تاہم معطلی بذاتِ خود کسی فوجداری جرم یا محکمانہ الزام کے حتمی ثبوت کے مترادف نہیں ہے۔ مزید کارروائی آڈیو کی تصدیق اور متعلقہ محکمانہ یا قانونی تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہوگی۔

یہ معاملہ پولیس کے داخلی احتساب کے ساتھ ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق کے سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی آڈیو یا ویڈیو مواد کی بنیاد پر فوری انتظامی کارروائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن کسی شخص کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے ریکارڈنگ کی اصلیت، سیاق و سباق اور دیگر شواہد کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ پولیس نے فی الحال ایس ایچ او کو عہدے سے معطل کیا ہے اور تکنیکی تصدیق کا مرحلہ باقی ہے۔