لاہور: پنجاب کے دو حلقوں، قومی اسمبلی کے این اے 77 گوجرانوالہ اور پنجاب اسمبلی کے پی پی 203 ساہیوال، میں ضمنی انتخابات کے لیے اتوار کو پولنگ جاری ہے۔ دونوں نشستیں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے منتخب ارکان کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھیں اور الیکشن کمیشن کے طے کردہ شیڈول کے تحت ووٹر اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

این اے 77 کی نشست پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہنے والے چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو طویل علالت کے بعد انتقال سے خالی ہوئی۔ ان کے بیٹے رشید بشیر ورک بھی ضمنی انتخاب میں امیدوار ہیں۔ حلقے میں رشید سمیت متعدد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، تاہم پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔

پولنگ سے ایک روز پہلے الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس بھی لیا تھا۔ کمیشن کے مطابق وزیر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ کیا اور ایک امیدوار کی انتخابی سرگرمی میں شرکت کی، جبکہ ضابطہ اخلاق سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد کو انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔ کمیشن نے ضلعی مانیٹرنگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کی اور وزیر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ یہ معاملہ زیر کارروائی ہے اور خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

پی پی 203 میں ضمنی انتخاب مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ کے 17 ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے بعد ہو رہا ہے۔ اس حلقے میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد یہ دوسری ضمنی انتخابی مشق ہے۔ 2024 میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال کامیاب ہوئے تھے، تاہم بعد میں انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں دیگر ارکان کے ساتھ نااہل اور ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔ نومبر 2025 کے ضمنی انتخاب میں حنیف جٹ نے نشست جیتی تھی۔

پی پی 203 میں 185 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور تقریباً 1,370 انتخابی اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق امن و امان کے لیے تقریباً 1,100 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولنگ اسٹیشنوں کو سکیورٹی حساسیت کے مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹریفک انتظام کے لیے بھی الگ نفری مقرر کی گئی ہے۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد انتخابی عملہ گنتی اور نتائج کی تیاری کا عمل شروع کرے گا۔ این اے 77 میں ضابطہ اخلاق سے متعلق الیکشن کمیشن کی کارروائی کے باعث کمیشن نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ متعلقہ معاملے پر حتمی فیصلے تک نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر یہ صرف کمیشن کی ممکنہ کارروائی ہے، حتمی انتخابی نتیجہ یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا فیصلہ نہیں۔