اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں اور ان کی ذیلی کمیٹیوں کے اخراجات، سفری الاؤنس، مراعات اور دیگر ادائیگیوں سے متعلق معلومات 10 دن کے اندر فراہم کی جائیں۔ کمیشن نے حقِ معلومات کے قانون کے تحت زیر التوا 13 سوالات کے واضح اور مخصوص جواب دینے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم صحافی سعدیہ مظہر کی اپیل پر جاری کیا گیا۔ دستیاب فیصلے کے مطابق انہوں نے 21 جون 2026 کو جنوری 2025 سے پارلیمانی کمیٹیوں کی کارکردگی اور مالی اخراجات کے بارے میں معلومات مانگی تھیں۔ درخواست میں قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کی فہرست، منعقدہ اجلاسوں کی تعداد، ان اجلاسوں پر آنے والے مجموعی اخراجات، اراکین اور چیئرمینوں کو دیے گئے سفری الاؤنس اور دیگر مراعات و ادائیگیوں کی تفصیلات شامل تھیں۔

درخواست گزار نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے مطلوبہ معلومات کا تسلی بخش جواب نہ ملنے پر 5 جولائی کو پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کی۔ کارروائی کے دوران سیکریٹریٹ کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا اور اسے درخواست گزار کے ساتھ شیئر کیا گیا، تاہم درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ قائمہ کمیٹیوں کی فہرست سے متعلق پہلے سوال کے علاوہ باقی 13 سوالات کا مطلوبہ جواب فراہم نہیں کیا گیا۔

کمیشن نے قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ اور سیکریٹریٹ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد تسلیم کیا کہ پارلیمان سے متعلق خاصی معلومات آن لائن دستیاب ہیں، لیکن اس نے قرار دیا کہ موجود مواد درخواست میں پوچھے گئے مخصوص سوالات کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ کمیشن کے مطابق سرکاری ادارے محض یہ کہہ کر ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے کہ عمومی معلومات ویب سائٹ پر موجود ہیں؛ حقِ معلومات کی درخواست میں پوچھے گئے نکات کا معروضی اور مخصوص جواب دینا ضروری ہے۔

انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان اور چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی کے جاری کردہ حکم میں قومی اسمبلی سیکریٹری کو سوال نمبر 2 سے 14 تک مکمل جواب 10 دن کے اندر دینے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن نے حکم پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے 19 نومبر کو مزید کارروائی مقرر کی ہے۔

یہ فیصلہ پارلیمانی اخراجات کی شفافیت اور عوامی معلومات تک رسائی کے تناظر میں اہم ہے۔ تاہم اس حکم سے کسی مالی بے ضابطگی کا نتیجہ اخذ نہیں ہوتا؛ کمیشن نے اخراجات میں بدعنوانی یا غلط استعمال کا فیصلہ نہیں دیا بلکہ مخصوص سرکاری معلومات کی فراہمی کا حکم دیا ہے۔ اصل توجہ اس بات پر ہے کہ قانون کے تحت مانگی گئی تفصیلات درخواست گزار کو واضح شکل میں مہیا کی جائیں۔