اسلام آباد: حکومتی اتحادی جماعتوں نے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے لیے اپنے نمائندوں کے نام وفاقی حکومت کو جمع کرا دیے ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں کی نامزدگیاں ابھی باقی ہیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی جماعتوں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہے، سے نام موصول ہو چکے ہیں۔
وزیر پارلیمانی امور کے مطابق مجوزہ کمیٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مجموعی طور پر 30 ارکان پر مشتمل ہوگی اور پارلیمانی جماعتوں کو دونوں ایوانوں میں ان کی عددی قوت کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی۔ دستیاب فارمولے کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے سات جبکہ مسلم لیگ (ن) کے لیے دس نشستیں مختص ہونے کی توقع ہے۔ تاہم چھوٹی اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے کے لیے مسلم لیگ (ن) کو اپنے حصے میں سے بعض نشستیں چھوڑنا پڑ سکتی ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے بھی رابطہ کرکے پارٹی کے نام مانگے ہیں، لیکن انہیں اس سلسلے میں مزید وقت درکار ہے۔ وزیر کے مطابق کمیٹی کی حتمی تشکیل سے پہلے قائد ایوان، نائب وزیراعظم، اتحادی جماعتوں، اپوزیشن اور متعلقہ پارلیمانی رہنماؤں کے درمیان مشاورت ہوگی۔
حکومت نے حالیہ دنوں میں انتخابی اصلاحات کے معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو ایک مشترکہ فورم پر لانے کی کوشش تیز کی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ مجوزہ کمیٹی کے ذریعے انتخابی نظام سے متعلق مختلف تجاویز اور شکایات پر پارلیمانی سطح پر غور کیا جا سکے گا۔ اس عمل میں اپوزیشن کی شرکت اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اصلاحات کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت پر مختلف حلقے زور دیتے رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت انتخابی اصلاحات کو سنجیدہ معاملہ سمجھتی ہے، لیکن اسے حکومتی نیت کے بارے میں تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی میں نامزدگیوں اور مجوزہ نمائندگی پر پہلے سیاسی کمیٹی، پھر پارلیمانی اور کور کمیٹی کی سطح پر مشاورت ضروری ہوگی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ محدود اپوزیشن نمائندگی کی صورت میں پارٹی کی تجاویز مؤثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔
ابھی کمیٹی کے حتمی ارکان، اس کے تفصیلی ضابطۂ کار اور اصلاحات کے مخصوص ایجنڈے کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو کمیٹی کی تشکیل کی جانب ایک انتظامی اور سیاسی مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مخصوص انتخابی ترمیم یا قانون کی منظوری۔
