پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے دو نجی ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ تربیت حاصل کرنے والے 17 افغان ڈاکٹروں کی گرفتاری یا ملک بدری عارضی طور پر روک دی ہے اور انہیں فی الحال اپنی ایف سی پی ایس تربیت جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل بینچ نے محمد ادریس سمیت 17 ٹرینی میڈیکل افسران کی مشترکہ درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار پشاور جنرل ہسپتال اور نارتھ ویسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ عدالتی حکم عبوری نوعیت کا ہے اور درخواست کے حتمی قانونی نکات کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

درخواست گزاروں نے پی ایم ڈی سی کے 31 جولائی اور یکم ستمبر 2026 کے خطوط کو چیلنج کیا ہے، جن کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ ان کے نتیجے میں جاری ایف سی پی ایس پوسٹ گریجویٹ تربیت ختم کرنے اور پاکستان چھوڑنے کا تقاضا کیا گیا۔ انہوں نے دونوں ہسپتالوں کی جانب سے 2 ستمبر کو جاری کیے گئے متعلقہ سرکلرز کو بھی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

ڈاکٹروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار افغان شہری ہیں جو پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم اور تربیت کے لیے درست طالب علم ویزوں پر پاکستان آئے تھے۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں نے مطلوبہ ایف سی پی ایس امتحانات مکمل کیے اور تسلیم شدہ تدریسی ہسپتالوں میں باقاعدہ تربیتی پروگراموں میں شامل ہوئے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی تربیت پاکستان اور افغانستان کے درمیان انتظامات کے تحت شروع ہوئی تھی۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹروں نے ویزوں کی توسیع یا تجدید کے لیے متعلقہ دستاویزات جمع کرا دی تھیں، مگر درخواستیں زیر التوا رہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویزا درخواستوں کے فیصلے سے پہلے تربیت روکنے اور واپسی کا تقاضا ان کے موکلوں کے حقوق متاثر کرتا ہے۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی موقف ہے جس پر سرکاری فریقوں کا جواب ابھی عدالت کے سامنے آنا ہے۔

عدالت نے فی الحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان 17 ڈاکٹروں کے خلاف گرفتاری یا ملک بدری کی کارروائی سے روکتے ہوئے ان کی تربیت جاری رکھنے دی ہے۔ مقدمے کا حتمی نتیجہ وفاقی حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ فریقوں کے جواب اور آئندہ سماعتوں کے بعد طے ہوگا۔