پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں زیر تعلیم 14 افغان میڈیکل طلبہ کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ سرکاری حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور درخواست گزار طلبہ کو آئندہ سماعت تک اپنی طبی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 14 افغان طلبہ کی آئینی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں اپنی جاری میڈیکل تعلیم مکمل کرنے تک پاکستان میں رہنے دیا جائے اور ملک بدری کی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکام کو درخواست گزاروں کے خلاف ملک بدری کی کارروائی سے روک دیا۔ متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے گئے اور 14 دن کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ عبوری حکم کا مطلب یہ ہے کہ کیس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور عدالت آئندہ سماعتوں میں حکومتی مؤقف، امیگریشن قواعد اور طلبہ کے تعلیمی و قانونی دعووں کا جائزہ لے گی۔
افغان شہریوں کی پاکستان میں موجودگی اور واپسی سے متعلق پالیسی گزشتہ عرصے سے انتظامی اور عدالتی سطح پر اہم مسئلہ رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کا معاملہ عام امیگریشن کیسز سے مختلف قانونی سوالات بھی پیدا کرتا ہے، خصوصاً جب طالب علم باقاعدہ تعلیمی پروگرام کے وسط میں ہوں اور ان کی ڈگری یا تربیت کا تسلسل متاثر ہونے کا امکان ہو۔
درخواست گزاروں کے حق میں جاری موجودہ حکم صرف عبوری نوعیت کا ہے۔ عدالت نے نہ تو ان کے مستقل قیام کا حق حتمی طور پر تسلیم کیا ہے اور نہ ہی حکومت کی وسیع تر افغان واپسی پالیسی پر حتمی فیصلہ دیا ہے۔ اس مرحلے پر حکم کا دائرہ درخواست دائر کرنے والے طلبہ کی ملک بدری روکنے اور ان کی تعلیم جاری رکھنے تک محدود ہے۔
کیس کی آئندہ پیش رفت حکام کے تحریری جواب اور عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے امیگریشن و تعلیمی ریکارڈ پر منحصر ہوگی۔ حتمی فیصلے تک 14 درخواست گزار طلبہ کو عدالتی تحفظ حاصل رہے گا، بشرطیکہ آئندہ سماعت میں عدالت اس حکم میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

