وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے نئے طیاروں کی ممکنہ خریداری سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے بعد حکومت خود پی آئی اے کے لیے طیارے نہیں خرید رہی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے قرض یا خودمختار حکومتی ضمانت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کا بیان 27 ستمبر کو سامنے آیا۔
وضاحت ایسے وقت کی گئی جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں پی آئی اے کے لیے طیاروں اور انجنوں کی ممکنہ فنانسنگ سمیت پاکستان میں ہوا بازی، ریفائنری اپ گریڈ اور ریکوڈک سے متعلق مالیاتی مواقع پر بات ہوئی۔ پی آئی اے کی جانب سے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں میں دلچسپی کا ذکر بھی سرکاری بریفنگ میں سامنے آیا تھا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کا بنیادی کردار امریکی برآمدات اور روزگار کو سہارا دینا ہے، اسی لیے وہ بیرون ملک خریداروں کو امریکی ساختہ طیاروں کی خریداری کے لیے مختلف مالیاتی ڈھانچے فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی فنانسنگ میں طیارہ خود بھی اثاثہ جاتی ضمانت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور کسی خودمختار حکومتی ضمانت کی شرط لازمی نہیں ہوتی۔
مشیر خزانہ نے زور دیا کہ حکومت کا کردار نجکاری کے بعد کاروباری اداروں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ذرائع، ٹیکنالوجی اور سپلائرز تک رسائی کے دروازے کھولنے اور تجارتی مواقع پیدا کرنے تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک فنانسنگ کو حکومتی قرض، پوشیدہ سبسڈی یا ٹیکس دہندگان پر پی آئی اے کے تجارتی خطرات منتقل کرنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک ایسا کوئی باقاعدہ انتظام اعلان نہ ہو۔
پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ برس دسمبر میں نیلامی کے ذریعے مکمل کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کی قومی ایئرلائن کی ملکیت اور تجارتی انتظام نجی شعبے کو منتقل ہوا۔ حکومت اس کے باوجود پاکستان کی نجی کمپنیوں اور برآمدی و سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے بیرونی مالیاتی روابط میں سہولت کاری جاری رکھنے کا مؤقف رکھتی ہے۔ موجودہ وضاحت کا مقصد یہی فرق واضح کرنا تھا کہ حکومتی سفارتی یا مالیاتی سہولت کاری اور ریاست کی براہِ راست قرض گیری یا مالی ضمانت ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔
