اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں اور ان سے متعلق اخراجات کے بارے میں معلومات تک رسائی کی درخواست کا جواب فراہم کیا جائے۔ ڈان کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق صحافی سعدیہ مظہر نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت متعدد سوالات میں کمیٹی اجلاسوں، سفری اور یومیہ الاؤنس سمیت مالی تفصیلات طلب کی تھیں، جس پر معاملہ کمیشن کے سامنے پہنچا۔

کمیشن کا فیصلہ سرکاری اداروں میں مالی شفافیت اور شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے قانونی حق سے متعلق ہے۔ پاکستان میں Right of Access to Information Act کے تحت وفاقی عوامی اداروں سے ایسی معلومات طلب کی جا سکتی ہیں جو قانون میں دی گئی مخصوص استثناؤں کے زمرے میں نہ آتی ہوں۔ پارلیمانی اداروں کے انتظامی اور مالی معاملات سے متعلق معلومات کی فراہمی بھی اسی قانونی فریم ورک کے تحت زیر بحث آ سکتی ہے۔

درخواست میں قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی تعداد، ارکان کی شرکت اور بعض مالی ادائیگیوں سے متعلق تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ کمیشن کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر قابلِ افشا معلومات درخواست گزار کو فراہم کرے۔ یہ حکم بذات خود کسی مالی بے ضابطگی یا غلط خرچ کا ثبوت نہیں ہے؛ اس کا بنیادی موضوع ریکارڈ تک رسائی اور سرکاری معلومات کی فراہمی ہے۔

پارلیمانی کمیٹیوں کے اخراجات میں اجلاسوں کے انتظامی اخراجات، اہل ارکان کے سفری یا یومیہ الاؤنس اور دیگر منظور شدہ مدات شامل ہو سکتی ہیں۔ کسی مخصوص رقم کو غیر قانونی یا غیر ضروری قرار دینے کے لیے علیحدہ مالی اور قانونی جانچ درکار ہوگی۔ موجودہ فیصلے میں توجہ اس بات پر ہے کہ شہری کو قانون کے مطابق ریکارڈ تک رسائی دی جائے۔

اس فیصلے کی عملی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوگی جب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ مطلوبہ معلومات فراہم کرے گا اور سامنے آنے والے ریکارڈ سے کمیٹی سرگرمیوں اور اخراجات کی تفصیلی تصویر دستیاب ہوگی۔ اگر کسی معلومات کو قانونی استثنا کے تحت روکا جاتا ہے تو متعلقہ ادارے کو اس کی قانونی بنیاد بیان کرنا ہوگی، جبکہ درخواست گزار کے پاس قانون میں موجود مزید چارہ جوئی کے راستے برقرار رہ سکتے ہیں۔