میرانشاہ: اپر جنوبی وزیرستان کی تحصیل سراروغہ کے جنتا علاقے میں ایک دیسی ساختہ بم کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار عبدالجبار دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق ضلع کے پولیس افسر اشفاق خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالجبار بم ڈسپوزل یونٹ کے اسسٹنٹ انچارج تھے اور ایک مشتبہ دھماکا خیز ڈیوائس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے موقع پر موجود تھے۔
پولیس کے مطابق اہلکار نے علاقے میں نصب ایک آئی ای ڈی کامیابی سے ناکارہ بنا دی تھی۔ اس کے بعد ایک دوسری دھماکا خیز ڈیوائس کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش کے دوران دھماکا ہوا، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے گئے۔
ضلع پولیس افسر نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ دوسری ڈیوائس ممکنہ طور پر بم ڈسپوزل ٹیم کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کی گئی تھی۔ یہ فی الحال پولیس کا ابتدائی شبہ ہے اور دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص گروہ کی ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق یا مکمل تفتیشی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اسی لیے واقعے کے ذمہ داروں سے متعلق کسی دعوے کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بم ڈسپوزل اہلکار مشتبہ دھماکا خیز مواد کی شناخت اور اسے ناکارہ بنانے کے دوران غیر معمولی خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے واقعات میں ایک سے زیادہ ڈیوائسز کی موجودگی سکیورٹی ٹیموں کے لیے اضافی خطرہ پیدا کرتی ہے، کیونکہ ابتدائی دھماکا خیز مواد کے قریب مزید آلات نصب ہونے کا امکان بھی تفتیشی عمل کا حصہ ہوتا ہے۔
اپر جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کو حالیہ عرصے میں دہشت گردی اور آئی ای ڈی حملوں کے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ تاہم ہر واقعے کے محرک، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کا تعین الگ تفتیش سے کیا جاتا ہے۔ جنتا کے واقعے میں بھی پولیس کی مزید تحقیقات سے ہی یہ واضح ہوگا کہ دھماکا خیز مواد کس نے نصب کیا اور دوسری ڈیوائس کا مخصوص ہدف کیا تھا۔
واقعے کے بعد سکیورٹی اور بم ڈسپوزل ٹیموں کے لیے علاقے میں مزید دھماکا خیز مواد کی تلاش اور شواہد محفوظ کرنا اہم ہوگا۔ دستیاب مصدقہ معلومات کے مطابق اس واقعے میں عبدالجبار کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ کسی دوسرے جانی نقصان کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
