اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے زچہ و بچہ وارڈ میں مہلک آتشزدگی کی تحقیقات کے بعد حکام نے کہا ہے کہ ذمہ داری متعین ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جیو نیوز کو بتایا کہ عبوری رپورٹ کے بعد پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ افراد کو معطل کیا جا چکا ہے اور حتمی کمیٹی رپورٹ ہر فرد کی ممکنہ غفلت یا ذمہ داری کی نوعیت واضح کرے گی۔
26 اگست کو پیش آنے والے واقعے میں گائناکالوجی وارڈ کے اس حصے میں آگ لگی جہاں 15 نومولود موجود تھے، اور 14 بچوں کی جان گئی۔ واقعے کے بعد اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔ عبوری رپورٹ میں آگ لگنے کے عین ابتدائی سبب کو تکنیکی طور پر غیر حتمی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مزید فارنزک جانچ درکار ہے۔ اس لیے کسی مخصوص آلے، تار یا فرد کو آگ کا قطعی سبب قرار دینا ابھی درست نہیں ہوگا۔
عبوری رپورٹ نے ادارہ جاتی سطح پر فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، اطلاع رسانی، انخلا کی منصوبہ بندی، آگ بجھانے کے انتظامات اور سکیورٹی رابطہ کاری میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق دستیاب سی سی ٹی وی شواہد عمومی طور پر اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ فرنٹ لائن طبی عملے نے بچوں کو چھوڑ دیا تھا؛ فوٹیج میں فوری امدادی کوششیں دکھائی گئیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ انتظامی خامیوں کی نشاندہی، فوجداری الزام اور عدالت میں جرم ثابت ہونا الگ قانونی مراحل ہیں۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق قانون کے شعبے اور پولیس بھی معاملے پر کام کر رہے ہیں اور حتمی رپورٹ کے بعد مقدمات انفرادی ذمہ داری کی بنیاد پر درج کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی ہدایت دے چکے ہیں کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار پائے جانے والوں سے رعایت نہ برتی جائے۔ تاہم حتمی فوجداری ذمہ داری تفتیش اور عدالتی عمل کے بعد ہی طے ہوگی۔ معطلی یا عبوری رپورٹ میں نام آنا بذات خود کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔




