اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی دارالحکومت کی اہم سرکاری عمارتوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی ردعمل کی عملی مشقیں شروع کی گئی ہیں۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سی ڈی اے، نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی فرضی فائر ڈرل کی، جبکہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے افسران اور عملے کے لیے ایک روزہ حفاظتی تربیتی سیشن منعقد کیا۔

پمز میں آگ کا واقعہ 26 اگست کو پیش آیا تھا۔ بعد میں وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی عبوری رپورٹ میں کہا گیا کہ ہسپتال کے پاس آگ یا دوسری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی معیاری طریقۂ کار، ایس او پیز، اور مناسب عملی تربیت موجود نہیں تھی۔ یہ عبوری نتیجہ ہے؛ واقعے کی مکمل ذمہ داری یا حتمی انتظامی و قانونی تعین کسی حتمی انکوائری رپورٹ اور متعلقہ کارروائی سے ہوگا۔

سی ڈی اے نے 4 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ایک فرضی آتشزدگی کی صورت حال پیدا کی۔ مشق کا مقصد عمارت خالی کرانے کے طریقۂ کار، ہنگامی عملے کے ردعمل، متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع، امدادی کارروائی اور دیگر بنیادی حفاظتی انتظامات کو عملی طور پر جانچنا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے افسران اور ملازمین نے مشق میں حصہ لیا اور سی ڈی اے کی ٹیم کے ساتھ تعاون کیا۔

حکام کے مطابق فرضی مشق سے موجودہ ہنگامی انتظامات کی خامیوں اور بہتری کے شعبوں کی نشاندہی کرنے کا موقع ملا۔ ایسی مشقوں کا مقصد صرف آگ بجھانے والے آلات دکھانا نہیں بلکہ الارم سے لے کر انخلا، حاضری کی تصدیق، رابطہ کاری، ریسکیو ٹیموں کی رسائی اور خطرے کے علاقے کو محفوظ بنانے تک پورے ردعمل کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں مشق کے دوران ریکارڈ کیے گئے انخلا کے وقت یا سامنے آنے والی مخصوص خامیوں کی فہرست جاری نہیں کی گئی۔

وفاقی آئینی عدالت کے تربیتی سیشن میں جسٹس علی باقر نجفی، رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان اور عدالت کے افسران و اہلکار شریک ہوئے۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر کیپیٹل ایمرجنسی سروس محمد احسن نے اسلام آباد کے ہنگامی ردعمل کے نظام اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کے طریقۂ کار پر بریفنگ دی۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق مسعود نے آگ کی مختلف اقسام، ہر قسم کے لیے مناسب آگ بجھانے کے طریقے، ذاتی حفاظت، محفوظ انخلا، ہنگامی تیاری اور متبادل منصوبہ بندی پر عملی رہنمائی دی۔ شرکا کو فائر ایکسٹنگوشر درست اور محفوظ انداز میں استعمال کرنے کی عملی تربیت بھی فراہم کی گئی۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ سیشن کا مقصد موجودہ حفاظتی انتظامات کا جائزہ اور انہیں مزید بہتر بنانے کے اقدامات کی نشاندہی ہے۔

پارلیمنٹ اور عدالت میں ہونے والی یہ سرگرمیاں احتیاطی تیاری اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات ہیں؛ ان سے یہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر نشاندہی شدہ خامی ختم یا تمام عمارتیں مکمل طور پر محفوظ قرار دے دی گئی ہیں۔ مؤثر فائر سیفٹی کے لیے مشقوں کے ساتھ فعال الارم، واضح اخراجی راستے، باقاعدہ معائنہ، تربیت یافتہ عملہ، آلات کی دیکھ بھال اور سفارشات پر تحریری عمل درآمد بھی ضروری ہوگا۔