اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت رہائشی قرضوں کے لیے ایسی جائیدادوں اور پلاٹس کی جامع نشاندہی کی جائے جو بینکوں کی رہن سے متعلق شرائط پوری کرسکیں۔ یہ ہدایت رسائی برائے مالیات منصوبہ 2026-28 کے جائزہ اجلاس میں دی گئی، جس میں ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے قرضوں کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ اپنا گھر اسکیم کے لیے اب تک 147,504 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 53,127 کی منظوری دی جا چکی ہے۔ منظور شدہ درخواستوں کی مجموعی مالیت 313.42 ارب روپے ہے، جبکہ 8,739 درخواست گزاروں کو عملی طور پر 45.43 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کم آمدن اور متوسط طبقے کو قابل برداشت رہائش کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں ایسے پلاٹس کی شناخت کے لیے نظام تیار کیا جا رہا ہے جو رہن کی ضروریات پوری کرتے ہوں، اور اس عمل کا ابتدائی پائلٹ منصوبہ اسلام آباد میں شروع کیا جائے گا۔ اس سروے کا مقصد قرض لینے والے شہریوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان جائیداد کی اہلیت سے متعلق رکاوٹیں کم کرنا ہے۔

اجلاس میں وسیع تر Access to Finance Plan کے تحت زرعی اور ایس ایم ای قرضوں پر بھی بات ہوئی۔ سرکاری معلومات کے مطابق اگست 2026 میں زرعی شعبے کے لیے بینک قرضوں کا حجم 1.268 کھرب روپے تھا، جبکہ منصوبے کے تحت جون 2028 تک اسے 2 کھرب روپے تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ایس ایم ای شعبے کے قرضوں کا حجم بھی اگست تک 1.067 کھرب روپے بتایا گیا۔

وزیراعظم نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور رہائشی شعبے کے لیے مالی وسائل تک رسائی بڑھائیں۔ اپنا گھر اسکیم کے منظور شدہ اور جاری شدہ قرضوں میں موجود فرق یہ ظاہر کرتا ہے کہ منظوری کے بعد دستاویزی، رہن اور دیگر بینکاری مراحل بھی اہم ہیں۔ حکومت کا مجوزہ جائیداد سروے انہی عملی رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، تاہم اسکیم کی آئندہ رفتار بینکوں کی جانچ، اہل جائیداد کی دستیابی اور درخواست گزاروں کی شرائط پوری کرنے پر منحصر ہوگی۔