اسلام آباد: اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور وزیراعظم یوتھ پروگرام نے نوجوان کاروباری افراد اور مائیکرو، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی و کاروباری معاونت تک رسائی بڑھانے کی غرض سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ شراکت دونوں اداروں کے وسائل، مہارت، رسائی کے نیٹ ورک اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا فریم ورک فراہم کرے گی۔

معاہدے کا بنیادی مقصد وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور اہل نوجوانوں و کاروباری اداروں کو درخواست، کاروباری منصوبہ بندی اور متعلقہ معاون خدمات تک بہتر رسائی دینا ہے۔ سمیڈا پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے مشاورتی اور ترقیاتی خدمات فراہم کرتا ہے، جبکہ وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کے لیے حکومتی مالی و تربیتی اقدامات کا پلیٹ فارم ہے۔

مفاہمتی یادداشت کی تقریب میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود خان نے شرکت کی۔ سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو نادیہ جے سیٹھ اور متعلقہ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق تعاون کے تحت دونوں ادارے ملک بھر میں نوجوانوں اور ایم ایس ایم ایز تک معلومات پہنچانے اور دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے عمل کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، مقامی پیداوار اور کاروباری سرگرمی کے اہم ذرائع ہیں، لیکن ان کے لیے رسمی قرض، کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی مسلسل چیلنج رہے ہیں۔ اسی طرح نئے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کو دستاویزات، مالی منصوبہ بندی اور بینکنگ تقاضوں سے متعلق رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نئی شراکت کا اعلان انہی رکاوٹوں کو کم کرنے کی حکومتی کوشش کا حصہ ہے۔

یہ مفاہمتی یادداشت بذات خود کسی مخصوص درخواست گزار کے لیے قرض کی منظوری نہیں ہے۔ عملی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مشترکہ پروگرام کس پیمانے پر نافذ ہوتے ہیں، کتنے درخواست گزاروں تک رسائی بنتی ہے اور قرض و کاروباری معاونت کے موجودہ طریقہ کار میں کتنی سہولت پیدا ہوتی ہے۔ تاہم معاہدے سے نوجوانوں اور ایم ایس ایم ایز کے لیے حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور معاونت کا باقاعدہ ڈھانچہ قائم کرنے کی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔