اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن 23 ستمبر کو پاکستان پہنچنے والا ہے جہاں وہ ملک کی معاشی کارکردگی اور دو جاری مالیاتی سہولتوں پر عمل درآمد کا ششماہی جائزہ لے گا۔ مذاکرات میں 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے اہداف اور پالیسی اقدامات کا جائزہ شامل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف ٹیم کی قیادت ایوا پیٹرووا کریں گی اور تقریباً دو ہفتے جاری رہنے والا دورہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس دوران ای ایف ایف کا چوتھا اور آر ایس ایف کا تیسرا جائزہ کیا جائے گا۔ ابتدائی تکنیکی بات چیت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ ہوگی، جس کے بعد وفاقی حکومت کی مختلف شعبہ جاتی ٹیموں اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

جائزے میں 30 جون 2026 تک کی مالی اور معاشی کارکردگی بنیادی حوالہ ہوگی، تاہم نئے مالی سال کے آغاز میں پالیسی اقدامات پر پیش رفت بھی زیر بحث آئے گی۔ خاص طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اس تیاری کا جائزہ لیا جائے گا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پہلی مرتبہ مقرر کیے گئے ششماہی محصولات کے ساختی ہدف کو کس حد تک حاصل کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی مالی اہداف میں پیش رفت بڑی حد تک طے شدہ راستے پر رہی، لیکن محصولات میں کمی اور بعض پالیسی شعبوں میں تاخیر اہم نکات ہیں۔

مذاکرات میں معاشی گورننس اور سرکاری اداروں میں شفاف خریداری سے متعلق اصلاحات بھی زیر غور آنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران معاشی گورننس بہتر بنانے کے لیے مقرر کئی اہداف میں پیش رفت محدود رہی۔ اسی طرح گندم اور چینی سمیت اجناس کی منڈی میں حکومتی مداخلت بھی پروگرام کی شرائط کے تناظر میں زیر بحث آ سکتی ہے۔

اگر جائزہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو پاکستان تقریباً ایک ارب ڈالر، یعنی 760 ملین اسپیشل ڈرائنگ رائٹس، ای ایف ایف کے تحت اور مزید تقریباً 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت حاصل کرنے کا اہل ہو سکتا ہے۔ ممکنہ اجرا نومبر کے آخر یا دسمبر کے اوائل میں ہو سکتا ہے، تاہم یہ رقم جائزے کی تکمیل اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ پاکستان اس وقت 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کے تحت مالی نظم، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی استحکام کے اہداف پر کام کر رہا ہے۔