اسلام آباد: برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (BII) نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کی موجودگی بڑھانے اور ترجیحی شعبوں میں مزید نجی سرمایہ متحرک کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ہیڈ آف ایشیا سرینی ناگراجن کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔
سرکاری پریس ریلیز کے مطابق گفتگو میں پاکستان کے لیے بی آئی آئی کے سرمایہ کاری منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی مالیات، نجی ایکویٹی، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی فنانسنگ اور معاشی و ساختی اصلاحات کے نتیجے میں سامنے آنے والے نئے مواقع پر توجہ دی گئی۔ ملاقات میں اس بات پر بھی غور ہوا کہ ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے نجی شعبے کی شمولیت کس طرح بڑھائی جا سکتی ہے۔
سرینی ناگراجن نے وزیر خزانہ کو بی آئی آئی کی 2026 سے 2031 تک کی سرمایہ کاری حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ سرکاری بیان کے مطابق ادارہ اس مدت میں ایشیا اور افریقہ میں کم از کم دو ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں جنوبی ایشیا اور فرنٹیئر مارکیٹس کو نمایاں اہمیت دی جائے گی۔ بیان میں پاکستان کے لیے کسی مخصوص حتمی رقم یا نئے منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے زیر بحث امور کو سرمایہ کاری کے امکانات اور منصوبہ بندی کے مرحلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے، اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان کو انفراسٹرکچر، توانائی منتقلی، موسمیاتی موافقت اور ایس ایم ایز کے لیے طویل مدتی سرمایہ درکار ہے، جبکہ حکومت غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری اور نجی سرمائے کو معاشی نمو کا اہم ذریعہ قرار دیتی رہی ہے۔
ملاقات میں بی آئی آئی کے پاکستان سے متعلق حکام کے علاوہ برطانوی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے نمائندے بھی شریک تھے۔ آئندہ مرحلے میں کسی بھی سرمایہ کاری کی عملی شکل، حجم اور شعبہ جاتی تقسیم متعلقہ اداروں کی جانچ، تجارتی شرائط اور منصوبوں کی تیاری سے مشروط ہوگی۔ موجودہ پیش رفت کا اہم پہلو یہ ہے کہ بی آئی آئی نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی دہراتے ہوئے نئے مواقع کی تلاش جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔




