اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی برآمدات بڑھانے، مقامی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو برآمدی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جدید کاری کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلہ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں ٹی ڈی اے پی کو جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تجارتی فروغ کے ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک مؤثر رسائی برآمدات بڑھانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ایک جدید ٹی ڈی اے پی اس عمل میں صنعتوں اور برآمد کنندگان کی سہولت کاری کر سکتا ہے۔

حکومت نے زرعی برآمدات کے لیے پیداوار سے لے کر پراسیسنگ، معیار، ترسیل اور مارکیٹ تک مکمل ویلیو چین پر مشتمل ایک مربوط نظام تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق زرعی شعبے کی برآمدی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف پیداوار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ عالمی معیار، سرٹیفکیشن، لاجسٹکس اور مارکیٹ رسائی کو بھی ایک ہی فریم ورک میں لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے ٹی ڈی اے پی میں تربیت یافتہ انسانی وسائل کی شفاف اور میرٹ پر بھرتی کی ہدایت کی۔ انہوں نے ادارے کے اندر ترقی اور ذمہ داریوں کو اہداف اور کارکردگی کے حصول سے منسلک کرنے پر زور دیا۔ مزید یہ کہ اتھارٹی کی مالی اور عملی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک معتبر نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحات کے نفاذ کے لیے 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں منظوری، ڈیزائن، عملی نفاذ اور آزادانہ جائزے کے مراحل شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحاتی عمل مکمل کرکے اس کا نفاذ آئندہ سال کے وسط تک یقینی بنایا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور مختلف صنعتی و زرعی شعبوں میں برآمدی صلاحیت کو بہتر ادارہ جاتی سہولت کاری کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٹی ڈی اے پی کی جدید کاری کے نتائج کا انحصار اصلاحاتی منصوبے کے بروقت نفاذ، نجی شعبے کے ساتھ رابطے، برآمدی معیار کی عملی تعمیل اور نئی منڈیوں تک رسائی میں قابل پیمائش بہتری پر ہوگا۔