اسلام آباد: پاکستان نے چین اور کویت سے مجموعی طور پر 4.3 ارب ڈالر کے قرضوں کو مزید مدت کے لیے رول اوور کرنے کی یقین دہانیاں حاصل کر لی ہیں، جس سے رواں مالی سال میں بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو سنبھالنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے وزارت خزانہ کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چین چار ارب ڈالر جبکہ کویت 30 کروڑ ڈالر کے قرض کی مدت بڑھائے گا۔
رپورٹ کے مطابق چینی قرض کا رول اوور مارچ 2027 میں متوقع ہے اور تینوں اہم دوطرفہ شراکت داروں، چین، کویت اور سعودی عرب، کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً ایک سال کی توسیع سے پاکستان کو 7.3 ارب ڈالر کا مالیاتی ریلیف مل سکتا ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی میں مزید مہلت دے چکا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران تقریباً 21 ارب ڈالر کی بیرونی قرض ادائیگیوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق دوطرفہ اور تجارتی قرض دہندگان سے بڑی رقم کے رول اوور کی منصوبہ بندی پہلے ہی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی کا حصہ رہی ہے۔ اس لیے تازہ یقین دہانیاں فوری ادائیگی کے دباؤ کو کم کرتی ہیں، لیکن قرض کی اصل ذمہ داری ختم نہیں کرتیں بلکہ اس کی ادائیگی آگے منتقل ہوتی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک روز قبل کہا تھا کہ سعودی عرب کے تین ارب ڈالر کے قرض کو مناسب مدت کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں اور حکومت مالی سال کے اختتام تک درآمدی کوریج مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دسمبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے تقریباً 1.21 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے، تاہم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ اگر یہ رقم منظور اور جاری ہوتی ہے تو بیرونی فنانسنگ پوزیشن کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔
پاکستان کی بیرونی مالی حکمت عملی میں قرضوں کی مدت بڑھانے کے ساتھ یورو بانڈ، پانڈا بانڈ اور دیگر مارکیٹ ذرائع تک رسائی بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قرضوں کی میچورٹی کو مختلف برسوں میں پھیلانا ضروری ہے تاکہ کسی ایک سال میں بہت زیادہ ادائیگیاں اکٹھی نہ ہوں۔ تاہم مستقل بیرونی استحکام کے لیے برآمدات، ترسیلات زر، براہ راست سرمایہ کاری اور قرض پر انحصار میں بتدریج کمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
