اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاکستان میں مقیم نمائندے ڈاکٹر مہیر بنجی نے کہا ہے کہ پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایسی گہری ساختی اصلاحات کرنا ہوں گی جو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں پائیدار اضافہ پیدا کر سکیں۔ انہوں نے صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی، گورننس میں بہتری، توانائی شعبے کی تنظیم نو اور کاروباری لاگت میں کمی کو اہم ترجیحات میں شمار کیا۔
ڈان کے مطابق ڈاکٹر بنجی نے یہ بات سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں کہی۔ اجلاس کا موضوع یہ تھا کہ معاشی نمو کے لیے اصلاحات کن شعبوں میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ آئی ایم ایف نمائندے نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے لیے مشکل اقدامات کیے ہیں، لیکن ان فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل اور درست ترتیب ضروری ہے۔
انہوں نے پانچ بنیادی ترجیحات کی نشاندہی کی: میکرو اکنامک استحکام کو محفوظ رکھنا، وسائل کی تقسیم بہتر بنانا، کاروبار کی لاگت کم کرنا، نمو کے لیے سازگار مالیاتی نظام بنانا اور گورننس مضبوط کرنا۔ ان کے مطابق صرف مالیاتی اشاریوں میں بہتری کافی نہیں ہوگی اگر نجی سرمایہ کاری، برآمدی مسابقت اور پیداواری صلاحیت میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہو۔
ڈاکٹر بنجی نے صوبائی ٹیکس نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسی ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو ایسی ریاستی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے کم از کم 15 فیصد کے مساوی محصولات جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو بنیادی عوامی خدمات مؤثر انداز میں فراہم کر سکے۔ یہ بیان عمومی پالیسی معیار کے تناظر میں دیا گیا؛ پاکستان کے لیے کسی مخصوص نئے ٹیکس یا شرح کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آئی ایم ایف نمائندے کے ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر محصولات کے دائرہ کار، توانائی شعبے کے مالی مسائل، کاروباری ضوابط اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بحث جاری ہے۔ صوبائی محصولات میں اضافہ خصوصاً ان شعبوں سے متعلق ہے جہاں آئینی اور انتظامی اختیار صوبوں کے پاس ہے، جبکہ وفاقی حکومت مجموعی مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی گئی ترجیحات سفارشات اور پروگرام سے متعلق پالیسی سمت کی عکاسی کرتی ہیں؛ ان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے الگ قانونی، بجٹی اور انتظامی فیصلے درکار ہوں گے۔ اس لیے تقریر کو کسی نئے ٹیکس اقدام، بجٹ فیصلے یا فوری قانونی تبدیلی کا حتمی اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اصل پیش رفت اس وقت واضح ہوگی جب متعلقہ حکومتیں مخصوص اصلاحات، ٹائم لائن اور نفاذ کے طریقۂ کار جاری کریں گی۔
