لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے متعلق قوانین میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو پیش کر دیا ہے۔ چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے یہ تفصیلات سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں بتائیں۔

علی حسام اصغر کے مطابق کاروباری اداروں کو موجودہ ریگولیٹری قوانین کے تحت چھاپوں، معائنوں اور بعض حالات میں گرفتاریوں کا سامنا رہتا ہے، جس سے معمول کی کاروباری سرگرمی کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمبر ضابطہ کاری کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن اس کی رائے میں خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے گرفتاری کے بجائے مالی جرمانوں اور اصلاحی اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہ چیمبر کا پالیسی مؤقف ہے اور مجوزہ ترامیم کی حتمی قانونی شکل قانون ساز اداروں کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔

سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کاروباری برادری کو سینیٹ کی فنانس، اقتصادی امور، تجارت اور صنعت سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ان کے مطابق مؤثر پالیسی سازی کے لیے متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت ضروری ہے، جبکہ ٹیکس، ریگولیٹری مشکلات، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اور کاروباری لاگت میں اضافہ حقیقی مسائل ہیں جن پر توجہ درکار ہے۔

گیلانی نے لاہور چیمبر کو پارلیمانی اداروں کے ساتھ فعال رابطہ برقرار رکھنے کی ترغیب دی اور کہا کہ کاروباری شعبے کا عملی تجربہ اور مختلف صنعتوں سے متعلق معلومات قانون سازی کے مباحث میں معاون ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے سینیٹ کو وفاقی اکائیوں اور مختلف معاشی فریقوں کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا اور جائز کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے ماحول کو بہتر بنانے کی بات کی۔

چیمبر کے صدر نے ایک اضافی تجویز بھی پیش کی کہ ایل سی سی آئی کے صدر کو سینیٹ کی اقتصادی نوعیت کی قائمہ کمیٹیوں میں بطور عہدہ رکن شامل کرنے پر غور کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر کاروبار سے متعلق قوانین کے جائزے کے لیے ایک طریقہ کار اور خصوصی ریویو کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی، جو موجودہ قوانین کے تجارت اور صنعت پر اثرات کا جائزہ لے سکے۔

فی الحال یہ تجاویز اور مسودہ ترامیم مشاورتی اور قانون سازی کے مرحلے میں ہیں۔ کسی قانون میں تبدیلی اسی وقت مؤثر ہوگی جب متعلقہ آئینی و قانونی طریقۂ کار، پارلیمانی یا صوبائی اسمبلی کی منظوری اور ضروری سرکاری کارروائی مکمل ہو۔ اس لیے چیمبر کی تجاویز کو نافذ شدہ قانون کے بجائے کاروباری برادری کی جانب سے پیش کیے گئے اصلاحاتی مطالبات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔