اسلام آباد: پاکستان میں بجلی کی مستقبل کی طلب پوری کرنے اور قابل تجدید توانائی کے بڑھتے حصے کو نظام میں مؤثر طور پر شامل کرنے کے لیے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی جدید کاری ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک سے متعلق توانائی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ گرڈ کو صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ذریعے درپیش مسائل حل نہیں کیے جا سکتے اور بجلی کی ترسیل، تقسیم، ڈیجیٹل نگرانی اور نظام کی لچک پر بھی مسلسل سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

رپورٹ میں پاکستان کی بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ، صنعت اور برقی آلات کے استعمال کو مستقبل کی بجلی طلب کے اہم محرکات میں شمار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شمسی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کی تیز رفتار شمولیت سے بجلی کے بہاؤ کا روایتی انداز بدل رہا ہے، جس کے لیے گرڈ آپریشن، ذخیرہ کاری، طلب کے انتظام اور حقیقی وقت میں نگرانی کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔

پاکستان کے پاور سیکٹر کو طویل عرصے سے گردشی قرض، لائن لاسز، وصولیوں میں کمزوری اور مہنگی پیداواری صلاحیت جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے میں نئی پیداوار کے ساتھ ترسیلی رکاوٹیں دور نہ کی جائیں تو دستیاب بجلی صارف تک پہنچانے میں دشواری برقرار رہ سکتی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ توانائی منتقلی کو صرف نئے منصوبوں کی تعمیر نہیں بلکہ پورے بجلی نظام کی منصوبہ بندی کے طور پر دیکھا جائے۔

گرڈ کی جدید کاری میں نئی ٹرانسمیشن لائنوں اور سب اسٹیشنوں کے علاوہ اسمارٹ میٹرنگ، خودکار کنٹرول، بہتر پیش گوئی، ڈیجیٹل ڈیٹا اور بجلی کے اتار چڑھاؤ کو سنبھالنے کی ٹیکنالوجی شامل ہو سکتی ہے۔ قابل تجدید توانائی چونکہ موسم اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے، اس لیے نظام کو ایسی لچک درکار ہوتی ہے جو طلب اور رسد کے فرق کو فوری طور پر سنبھال سکے۔

رپورٹ میں نجی شعبے کے سرمایہ اور مسابقتی فنانسنگ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، تاہم سرمایہ کاری کے لیے واضح ضابطہ کاری، قابل اعتماد ادائیگی کا نظام اور منصوبوں کی بروقت منظوری بنیادی شرائط رہیں گی۔ پاکستان میں بجلی کی قیمت پہلے ہی گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے حساس مسئلہ ہے، اس لیے گرڈ پر نئی سرمایہ کاری کے ساتھ لاگت اور کارکردگی میں توازن قائم کرنا پالیسی سازوں کے لیے اہم ہوگا۔

توانائی کے نظام کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ بجلی کی طلب کے تخمینوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے، کیونکہ چھتوں پر شمسی نظام، بیٹریوں، برقی گاڑیوں اور صنعتی خود پیداوار کے پھیلاؤ سے قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کا انداز بدل سکتا ہے۔ اس تناظر میں رپورٹ کا پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو 2050 تک کے تقاضوں کے لیے آج سے ایسی سرمایہ کاری اور اصلاحات شروع کرنا ہوں گی جو بجلی کے نظام کو زیادہ قابل اعتماد، لچکدار اور مالی طور پر پائیدار بنا سکیں۔