اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے واضح لائحہ عمل، قابل پیمائش اہداف اور مقررہ مدت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں جاری اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم صارفین کو درپیش عملی مسائل دور کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور شہریوں کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی بہتر بنائی جائے تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام صرف بڑے شہروں یا مخصوص طبقات تک محدود نہ رہے۔ اجلاس میں راست کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین اور تاجروں کے درمیان ادائیگیوں کو فروغ دینے کی اسکیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے اس اسکیم کو حکومتی سرپرستی میں جاری رکھنے کی ہدایت کی اور یوٹیلیٹی بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی حوصلہ افزائی کے لیے آگاہی مہم چلانے پر زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل جاری ہے اور بیشتر اداروں میں دسمبر 2026 تک تمام ادائیگیوں کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ ان علاقوں کے لیے بھی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں یا رابطہ محدود ہے۔
حکام نے بتایا کہ 15 نومبر 2026 سے آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی چیک کے ذریعے ادائیگیاں ختم کرنے کا منصوبہ ہے اور 16 نومبر سے ان اکاؤنٹس کی ادائیگیاں راست کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کی تربیت بھی کی جا چکی ہے۔
وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس اکانومی پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے حکام شریک ہوئے۔ حکومتی منصوبے کی کامیابی کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صارفین کے اعتماد، مرچنٹس کی شمولیت اور ایسے شہریوں کے لیے قابل عمل متبادل اہم ہوں گے جنہیں ابھی تک مستحکم انٹرنیٹ یا رسمی مالیاتی خدمات تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔
