اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو مقررہ سہولت فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیراعظم نے جمعرات کو پروگرام پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمل درآمد اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کی ادائیگی کا طریقہ آسان بنانے سے پروگرام میں شامل ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ فیول سبسڈی اسکیم کے تحت اب تک 15,519,282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے 449,000 مالکان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 63,153,685 فیول ٹوکن جاری کیے گئے جن میں سے 59,445,347 استعمال ہو چکے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 4 نومبر 2026 تک فیول سبسڈی کی مد میں 28.6 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ صارفین اور پٹرول پمپس کے لیے الگ کال سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں اور شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور ان کی ٹیم کی مانیٹرنگ اور ڈیش بورڈ نظام تیار کرنے پر تعریف کی۔
حکومت نے یہ ریلیف پروگرام ستمبر میں موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے متعارف کرایا تھا۔ اعلان کردہ قواعد کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 20 لیٹر تک ایندھن پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کے اہل ہیں، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے یہی رعایت ماہانہ 30 لیٹر تک مقرر کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کو دیگر عوامی فلاحی اسکیموں کے لیے بھی قابل استعمال ماڈل قرار دیا۔ لائسنس منسوخی کی ہدایت کا مقصد اسکیم میں شامل پٹرول پمپس کو رجسٹرڈ صارفین کے لیے طے شدہ سہولت یقینی بنانے کا پابند کرنا ہے۔ تاہم کسی مخصوص پٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کیے جانے کی تفصیل اس بیان میں نہیں دی گئی؛ عملی کارروائی متعلقہ ریگولیٹری اور انتظامی طریقہ کار کے تحت ہوگی۔

