اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کا پہلا مرحلہ مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ حکم 3 ستمبر 2026 کو وزیراعظم آفس میں منصوبے اور وفاقی حکومت پولی کلینک کے فیز ٹو توسیعی کام سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران دیا گیا۔ مقررہ تاریخ حکومتی ہدف ہے؛ منصوبے کی حقیقی تکمیل اور افتتاح تعمیراتی پیش رفت اور ضروری طبی و انتظامی تیاری سے مشروط ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-11 میں زیر تعمیر وفاقی پولی کلینک توسیعی منصوبے کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے مرحلے کے طور پر شروع کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد موجودہ تعمیراتی کام کو استعمال کرکے ہسپتال کا ابتدائی حصہ جلد فعال کرنا اور شہریوں کو نئی طبی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد فیز ٹو پولی کلینک عمارت وسیع جناح میڈیکل کمپلیکس منصوبے کی مرحلہ وار تشکیل میں شامل ہوگی۔
وزیراعظم کو مجوزہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کی عمارت کے مختلف ڈیزائن اور تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکا کو پولی کلینک فیز ٹو توسیع کے تعمیراتی کام کی موجودہ پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ دستیاب سرکاری تفصیل میں عمارت کی مجموعی لاگت، بستروں کی تعداد، شعبوں کی مکمل فہرست، منظور شدہ ڈیزائن یا مالی ذرائع کے حتمی اعداد جاری نہیں کیے گئے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے کو جدید معیار کا ہسپتال بنایا جائے اور اس میں جدید و اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی طبی آلات اور مشینری کی تنصیب یقینی بنائی جائے۔ طبی آلات کی اقسام، خریداری کا طریقہ، ٹینڈر کی مدت اور ان کی مالیت کے بارے میں تفصیلی اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے منصوبے کی کل طبی صلاحیت کا اندازہ حتمی خریداری اور آپریشنل منصوبے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
وزیراعظم نے تعمیر کے ساتھ ساتھ تیسرے فریق سے منصوبے کی توثیق جاری رکھنے کا بھی حکم دیا۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری بیان کے مطابق معیار اور شفافیت برقرار رکھنا ہے۔ تیسرے فریق کی شناخت، معائنے کے مراحل، رپورٹنگ کا طریقہ اور نتائج عام کرنے کے ضابطے کی تفصیل دستیاب خبر میں شامل نہیں، اس لیے نگرانی کے مؤثر ہونے کا جائزہ بعد میں جاری ہونے والی رپورٹس سے ہوگا۔
اجلاس میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار بڑھانے اور معیاری علاج کی دستیابی کو حکومتی ترجیح قرار دیا گیا۔ جناح میڈیکل کمپلیکس کا تصور علاج، جدید ہسپتال خدمات اور طبی تحقیق کو ایک بڑے ادارہ جاتی ڈھانچے میں یکجا کرنے سے متعلق ہے، لیکن پہلے مرحلے میں کون سے کلینیکل، تشخیصی یا تحقیقی شعبے فعال ہوں گے، اس کی حتمی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی۔
مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن تک صرف عمارت مکمل ہونا کافی نہیں ہوگا؛ ہسپتال کو فعال کرنے کے لیے آلات، ڈاکٹر و نرسنگ عملہ، ادویات، آئی ٹی نظام، فائر سیفٹی، بجلی و بیک اپ، لیبارٹری اور انتظامی منظوریوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے ان تمام اجزا کا مفصل شیڈول جاری نہیں کیا، اس لیے مقررہ تاریخ کے قریب عملی تیاری کی الگ جانچ ضروری ہوگی۔
منصوبے کی پیش رفت کا قابلِ تصدیق پیمانہ تعمیراتی فیصد، منظور شدہ بجٹ، خریداری کے معاہدے، عملے کی بھرتی، تیسرے فریق کی معیار رپورٹ اور مریضوں کے لیے خدمات کے آغاز کی تاریخ ہوگی۔ وزیراعظم کی ہدایت انتظامی رفتار بڑھانے کا حکم ہے، اسے ابھی ہسپتال کے فعال یا مکمل ہو جانے کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے جی-11 میں زیر تعمیر پولی کلینک توسیع کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے مرحلے کے طور پر استعمال کرنے، اسے مارچ 2027 تک مکمل کرنے، جدید مشینری نصب کرنے اور تعمیر کے ساتھ آزاد توثیق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ سرکاری اپ ڈیٹس سے منصوبے کی مالی، طبی اور تعمیراتی تفصیل واضح ہوگی۔




