اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگمنگ یانگ سے ملاقات میں کراچی تا پشاور مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے کی جدید کاری اور منصوبے کے جلد سنگ بنیاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ریلوے رابطوں کے ساتھ پاکستان اور اے ڈی بی کی نئی پانچ سالہ ترقیاتی شراکت داری بھی زیر بحث آئی۔

وزیراعظم نے ایم ایل ون کو قومی بنیادی ڈھانچے کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی اپ گریڈیشن سے مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی رابطے مضبوط کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ ملاقات میں منصوبے کے عملی آغاز کو تیز کرنے پر بات ہوئی، لیکن جاری بیان میں پورے کراچی تا پشاور منصوبے کے لیے کسی نئے حتمی قرض معاہدے، ٹینڈر کے اجرا یا اسی روز تعمیر شروع ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے “جلد سنگ بنیاد” کو منصوبے کے آغاز کے لیے سیاسی و انتظامی ہدایت سمجھا جائے، مکمل نفاذ کی تصدیق نہیں۔

سرکاری اور صحافتی معلومات کے مطابق ایم ایل ون تقریباً 1,670 کلومیٹر طویل مرکزی ریلوے راہداری ہے اور اس کے مکمل جدید کاری منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ تقریباً 10 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کراچی تا روہڑی ابتدائی حصے کے لیے اے ڈی بی سے تقریباً 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کی اطلاع دے چکا ہے۔ ایک روز قبل وزارت ریلوے میں اے ڈی بی وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے کراچی تا روہڑی حصے کی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر بتائی اور کہا کہ حکومت رواں مالی سال میں اس کا سنگ بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔ مالی معاونت اور مجموعی تعمیراتی لاگت الگ اعداد ہیں، اس لیے دونوں کو ایک ہی رقم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

وزارت ریلوے کے مطابق 183 کلومیٹر طویل نواب شاہ تا روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیاد پر لینے کا منصوبہ ہے، جبکہ کراچی تا روہڑی حصے کو تین برس میں مکمل کرنے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ وزیر ریلوے نے اے ڈی بی سے مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری کا عمل تیز کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ یہ اہداف سرکاری منصوبہ بندی کا حصہ ہیں؛ ان کی تکمیل حتمی مالی دستاویزات، خریداری، معاہدوں اور تعمیراتی پیش رفت سے مشروط ہوگی۔

وزیراعظم اور اے ڈی بی نائب صدر نے 2026 تا 2030 کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی کے تحت ترجیحات کا بھی جائزہ لیا۔ اے ڈی بی نے اس حکمت عملی کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی مجموعی مالی معاونت کا خاکہ منظور کیا ہے، جس کا دائرہ صرف ایم ایل ون تک محدود نہیں بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے، توانائی، خوراک کے تحفظ، نجی شعبے، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے طے شدہ ترجیحات کو قابل پیمائش منصوبوں اور نتائج میں بدلنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ایم ایل ون کے بارے میں اگلا فیصلہ کن مرحلہ سنگ بنیاد کی باضابطہ تاریخ، قرض و مالیاتی منظوریوں، ٹھیکوں اور زمینی تعمیر کی سرکاری تصدیق ہوگا۔