نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق نیویارک آمد پر پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

وزیراعظم آفس کے مطابق خطاب میں پاکستان کی جانب سے علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، سفارت کاری، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر موقف پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیراعظم پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی مشکلات اور اقوام متحدہ میں اصلاحات جیسے موضوعات کو اجاگر کریں گے۔

سرکاری بیان کے مطابق کشمیر اور فلسطین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کا ذکر بھی وزیراعظم کی تقریر میں متوقع ہے۔ ان امور پر بیان کردہ پوزیشن حکومتِ پاکستان کی سرکاری پالیسی کی نمائندگی کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے مباحثے میں مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی اور خطے کی توانائی و سمندری سلامتی سے متعلق معاملات بھی نمایاں رہنے کی توقع ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا مرکزی موضوع "اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے نتیجہ دے" رکھا گیا ہے۔ اعلیٰ سطحی عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہنے کا پروگرام ہے جبکہ آخری نشست 28 ستمبر کو مقرر ہے۔

وزیراعظم کے دورے کے دوران متعدد اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت اور مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ان ملاقاتوں میں علاقائی امن، تجارت و سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور کثیرالجہتی سفارت کاری سے متعلق امور زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ملاقات بھی دورے کے پروگرام میں شامل بتائی گئی ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی نیویارک پہنچ چکے تھے اور انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر فرانس، مصر اور یورپی یونین کے نمائندوں سمیت مختلف عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال ہوا۔

حکومت نے اس دورے کے وفد کو حالیہ کفایتی اقدامات کے تناظر میں محدود رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ نائب وزیراعظم، بعض وفاقی وزرا اور سینئر حکام موجود ہیں۔ دورے کا بنیادی مقصد جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی، کثیرالجہتی فورمز میں شرکت اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھانا ہے۔