اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بینکاری شعبے کو ہدایت کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، کسانوں اور گھر خریدنے والے افراد تک قرضوں کی رسائی تیز کی جائے تاکہ نجی شعبے کی سرگرمی، زرعی پیداوار اور رہائشی فنانسنگ کو وسعت دی جا سکے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایات بینکاری اور قرضوں سے متعلق ایک اجلاس میں دیں، جہاں مختلف فنانسنگ پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ’’اپنا گھر‘‘ اسکیم کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہ رقم منظور شدہ فنانسنگ کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے لازماً مکمل طور پر تقسیم شدہ رقم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں اور بینکوں پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور فراہمی کے عمل کو مؤثر بنایا جائے تاکہ اہل درخواست گزاروں کو مالی وسائل تک بروقت رسائی مل سکے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پاکستان میں روزگار اور مقامی پیداوار کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن انہیں ضمانت، دستاویزات، بلند مالی لاگت اور رسمی بینکاری تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ حکومت کی ہدایت کا مقصد ان رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے بینک قرضوں کا دائرہ ان شعبوں تک بڑھانا ہے جو روایتی طور پر بڑے کارپوریٹ قرض لینے والوں کے مقابلے میں کم فنانسنگ حاصل کرتے ہیں۔

زرعی شعبے کے حوالے سے بھی بینکوں کو قرضوں کی رفتار بڑھانے پر توجہ دینے کو کہا گیا۔ کسانوں کے لیے رسمی قرض کی دستیابی بیج، کھاد، زرعی مشینری، آبپاشی اور دیگر پیداواری ضروریات کی مالی اعانت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بروقت قرض نہ ملنے کی صورت میں چھوٹے کاشت کار غیر رسمی اور نسبتاً مہنگے ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

رہائشی فنانسنگ کے شعبے میں اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور شدہ قرضوں کا حجم اجلاس میں نمایاں کیا گیا۔ تاہم کسی بھی حکومتی ہاؤسنگ پروگرام کی عملی کامیابی کا انحصار صرف منظور شدہ رقم پر نہیں بلکہ قرض کے اجرا، اہل گھرانوں تک رسائی، ماہانہ ادائیگی کی استطاعت اور تعمیر یا خریداری کی حقیقی پیش رفت پر بھی ہوگا۔

وزیراعظم کی ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نجی شعبے کو قرض، مالی شمولیت اور سرمایہ کاری بڑھانے کو معاشی سرگرمی کے لیے اہم قرار دے رہی ہے۔ بینکوں کے لیے اس پالیسی سمت کے ساتھ کریڈٹ رسک، قرض لینے والوں کی ادائیگی کی صلاحیت اور ریگولیٹری تقاضوں کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔ اجلاس میں دی گئی ہدایات کے بعد عملی نتائج کا اندازہ آئندہ قرضوں کی منظوری، تقسیم اور متعلقہ شعبوں میں فنانسنگ کے اعداد و شمار سے ہوگا۔