اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ ہفتوں میں روس کے سرکاری دورے کی تیاری کی جا رہی ہے، جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد اور ماسکو اعلیٰ سطح رابطوں کو نئی رفتار دینا چاہتے ہیں، تاہم پاکستانی حکومت نے تاحال دورے کی تاریخ یا مکمل شیڈول کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ دورے میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی اہم موضوعات ہوں گے، جبکہ افغانستان اور وسیع تر علاقائی سلامتی بھی بات چیت میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ چونکہ دورے کی تاریخ سرکاری طور پر جاری نہیں ہوئی، اس لیے اسے حتمی طے شدہ پروگرام کے بجائے زیرِ تیاری سفارتی مصروفیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کا روس کا دورہ اس سے قبل رواں سال مارچ کے آغاز میں متوقع تھا، مگر پاکستان نے یکم مارچ کو علاقائی اور داخلی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مؤخر کر دیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اور ایران سے متعلق وسیع علاقائی بحران نے اسلام آباد کی سلامتی اور شہریوں کے انخلا سے متعلق ترجیحات کو متاثر کیا تھا۔ حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ نئی تاریخیں باہمی مشاورت سے طے کی جائیں گی۔
اب دورے کی تیاری دوبارہ شروع ہونے کی اطلاع اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک وہ اعلیٰ سطح رابطہ بحال کرنا چاہتے ہیں جو علاقائی حالات کے باعث مؤخر ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور روس نے حالیہ برسوں میں توانائی، رابطہ کاری، زراعت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر کام کیا ہے، اگرچہ بینکاری، ادائیگی کے طریقہ کار اور رابطہ کاری جیسی عملی رکاوٹیں تجارتی تعلقات میں توسیع کے لیے بدستور اہم سمجھی جاتی ہیں۔
رواں ماہ روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے اسلام آباد کے دورے اور پاکستانی سول و عسکری قیادت سے ملاقاتوں کو بھی دوطرفہ رابطوں کے حالیہ سلسلے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور اقتصادی ترقی میں زیادہ تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔
مجوزہ ماسکو دورے کے بارے میں فی الحال سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ سرکاری شیڈول جاری نہیں ہوا۔ چنانچہ ملاقاتوں کی حتمی تاریخ، وفد کی ساخت اور کسی ممکنہ معاہدے یا مفاہمتی دستاویز کی تفصیل باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔
