ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو ہفتے کی بندش کے بعد اتوار کو محدود فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا، تاہم اسی روز یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مزید حملوں کے دعووں اور سعودی دفاعی کارروائیوں کے باعث سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ رہی۔

اے ایف پی کے حوالے سے ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ کی ویب سائٹ پر دبئی، پیرس اور قاہرہ سمیت متعدد مقامات سے ملکی اور بین الاقوامی پروازیں شیڈول دکھائی گئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس کے مطابق چند طیاروں نے روانگی بھی کی، لیکن پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ رہی۔ سعودی حکام نے فوری طور پر بحال ہونے والے آپریشن کے مکمل دائرہ کار کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

پروازوں کی بحالی ایسے وقت ہوئی جب اتوار کی صبح ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور شہریوں کو شہر کو درپیش ایک مخالفانہ خطرے سے متعلق انتباہی پیغام بھیجا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوبی حصوں میں بھی ممکنہ حملوں کے انتباہ فعال کیے گئے۔ حوثیوں کے خلاف سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے کہا کہ کم از کم 10 بیلسٹک میزائل روکے گئے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب کے دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس دعوے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ ترجمان نے ایئرپورٹ کو بدستور غیر محفوظ اور فوجی ہدف قرار دیا، جبکہ سعودی جانب سے فضائی آمدورفت مرحلہ وار بحال کرنے کے اشارے سامنے آئے۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حملوں کے بعد بند رہا تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ایئرپورٹ پر ایک حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور دیگر مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ سعودی دفاعی نظام متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے دعوے کرتا رہا ہے۔

موجودہ پیش رفت سے واضح ہے کہ ایئرپورٹ کا دوبارہ کھلنا مکمل معمول کی بحالی کے مترادف نہیں۔ محدود پروازوں، بڑی تعداد میں منسوخیوں اور نئے حملوں کے خطرے کے باعث مسافروں اور فضائی کمپنیوں کے لیے صورتحال غیر یقینی ہے۔ آئندہ آپریشن کا انحصار سکیورٹی حالات، سعودی شہری ہوا بازی حکام کی ہدایات اور حملوں کے تسلسل پر ہوگا۔