ساؤ پالو: برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کر کے چوتھی غیر مسلسل مدت کے لیے اقتدار کا مینڈیٹ حاصل کر لیا ہے۔ برازیل کی انتخابی اتھارٹی نے نتائج کی بنیاد پر لولا کی کامیابی کی تصدیق کی، جبکہ ان کے مقابل دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو تھے۔

رائٹرز کے مطابق اتوار کو ہونے والے رن آف نے لاطینی امریکا کے سب سے بڑے ملک میں ایک سخت سیاسی مقابلے کا فیصلہ کیا۔ لولا بائیں بازو کی ورکرز پارٹی کے امیدوار اور موجودہ صدر تھے، جبکہ فلاویو بولسونارو سابق صدر ژائر بولسونارو کے بیٹے ہیں اور پہلے مرحلے کے بعد مضبوط حریف کے طور پر سامنے آئے تھے۔ انتخابی نتیجے نے لولا کو برازیل کی صدارت کے لیے ایک اور مدت فراہم کی ہے اور ان کی طویل سیاسی زندگی میں ایک نیا باب شامل کیا ہے۔

یہ نتیجہ ایسے وقت آیا ہے جب برازیل میں معیشت، مہنگائی، سماجی پروگرام، عوامی تحفظ اور سیاسی اداروں کے کردار پر شدید بحث جاری رہی۔ انتخابی مہم میں دونوں امیدواروں نے ملک کی سمت کے بارے میں مختلف تصورات پیش کیے، اور رن آف تک پہنچنے والا مقابلہ اس سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا رہا جو گزشتہ کئی برسوں سے برازیلی سیاست کا نمایاں پہلو ہے۔

انتخابی اتھارٹی کی جانب سے کامیابی کی تصدیق اس مرحلے کی بنیادی سرکاری پیش رفت ہے۔ بعض سیاسی ردعمل اور ممکنہ قانونی اعتراضات الگ معاملات ہیں اور انہیں انتخابی نتیجے کی سرکاری تصدیق سے الگ دیکھا جائے گا۔ کسی بھی عدالتی چیلنج کی صورت میں اس کا نتیجہ متعلقہ اداروں کے فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگا۔

لولا پہلے بھی برازیل کی صدارت کر چکے ہیں اور 2023 میں دوبارہ منصب سنبھالا تھا۔ نئی کامیابی انہیں چوتھی غیر مسلسل صدارتی مدت تک لے جاتی ہے، جو برازیل کی جدید سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کی اگلی حکومت کو ایک منقسم سیاسی ماحول، کانگریس میں مختلف جماعتوں کے مفادات اور معاشی و سماجی پالیسیوں پر مسلسل دباؤ کا سامنا رہنے کی توقع ہے۔

برازیل عالمی سطح پر بڑی ابھرتی ہوئی معیشت، جی 20 رکن اور جنوبی امریکا کی اہم سفارتی طاقت ہے، اس لیے صدارتی انتخاب کا نتیجہ خطے سے باہر بھی توجہ کا مرکز بنا۔ نئی مدت میں خارجہ تعلقات، تجارت، ماحولیات اور علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے برازیل کے فیصلوں پر بھی نظر رہے گی۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی خبر یہی ہے کہ انتخابی اتھارٹی نے رن آف کے بعد لولا دا سلوا کو فاتح قرار دیا ہے۔