ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں 7 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے قبل از وقت ووٹنگ شروع ہو گئی ہے، ایسے وقت میں جب بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان مقابلہ غیر یقینی ہے اور کسی ایک جماعت کو واضح برتری حاصل نہیں۔ رائٹرز کے مطابق وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی مرکز دائیں بازو کی نیشنل پارٹی اور سابق وزیر اعظم کرس ہپکنز کی قیادت میں حزب اختلاف کی لیبر پارٹی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے معاشی کارکردگی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کو انتخابی بحث کا مرکزی حصہ بنا رہی ہیں۔
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک سروے میں نیشنل پارٹی کو لیبر پر برتری حاصل تھی، جبکہ دوسرے میں لیبر معمولی فرق سے آگے دکھائی گئی۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی نتیجے اور ممکنہ حکومتی اتحاد کے بارے میں پیش گوئی مشکل ہے۔ نیوزی لینڈ کے مخلوط رکن متناسب نمائندگی کے نظام میں اکثر کسی ایک جماعت کو تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت نہیں ملتی اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اہم ہو جاتے ہیں۔
اس انتخاب میں معیشت نمایاں مسئلہ ہے۔ ووٹر سست معاشی نمو، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ پر توجہ دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم لکسن نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاشی اقدامات کے نتائج کے لیے مزید وقت درکار ہے، جبکہ ہپکنز نے مالی دباؤ کم کرنے کے لیے تیز اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ یہ سیاسی اختلاف انتخابی مہم میں حکومتی کارکردگی اور متبادل معاشی راستے کے درمیان بنیادی مقابلہ بن گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک اور اہم عنصر دی آپرچیونٹی پارٹی کی انتخابی حمایت ہے، جو بعض جائزوں میں پارلیمان میں نمائندگی کے لیے پانچ فیصد کی حد کے قریب یا اس سے اوپر دکھائی گئی۔ اگر یہ جماعت پارلیمان میں داخل ہوتی ہے تو حکومت سازی کے لیے اتحاد کی مساوات مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ دیگر چھوٹی جماعتوں کی نشستیں بھی حتمی پارلیمانی توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قبل از وقت ووٹنگ سیکڑوں مقامات پر دستیاب ہے اور انتخابی دن تک ووٹنگ مراکز کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ ووٹر اندراج کے قواعد بھی سیاسی بحث کا حصہ بنے ہیں، کیونکہ ناقدین نے انتخابی دن سے پہلے اندراج بند ہونے کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ اعتراضات انتخابی شرکت سے متعلق ہیں؛ ان کا حتمی اثر ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہی جانچا جا سکے گا۔
فی الحال کوئی انتخابی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور رائے عامہ کے جائزے حتمی ووٹ کا متبادل نہیں ہیں۔ 7 نومبر کی پولنگ اور بعد کے سرکاری نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا اور آیا کسی جماعت کو اتحادی شراکت داروں کی ضرورت پڑے گی۔

