ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کی سرگرمیاں دو ہفتے سے زیادہ کی بندش کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ ائیرپورٹ انتظامیہ کے مطابق ٹرمینل ایک اور دو کو ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھولا گیا ہے، تاہم یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اکتوبر کے اوائل میں حوثی حملوں سے ائیرپورٹ کے دوسرے ٹرمینلز پر مشتمل کمپلیکس متاثر ہوا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر آپریشن معطل کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں جانی نقصان بھی ہوا اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے محدود ملکی پروازیں بحال کی گئی تھیں، جبکہ اب دو ٹرمینلز سے بین الاقوامی آمدورفت بھی دوبارہ شروع کی گئی ہے۔

پروازوں کی بحالی کے دن ہی سعودی حکام نے بتایا کہ فضائی دفاع نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور ایک ڈرون تباہ کیا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جنوبی سعودی علاقے کی جانب آنے والے مزید بیلسٹک میزائل بھی روکے گئے۔ ان دعوؤں کا بنیادی ماخذ سعودی حکام ہیں، اس لیے حملوں اور انٹرسیپشن کی تفصیلات کو انہی کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سعودی عرب کے اہم ترین فضائی مراکز میں شامل ہے اور دارالحکومت کو مشرق وسطیٰ، ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں سے جوڑتا ہے۔ طویل بندش نے مسافروں اور ائیرلائنز کے نظام الاوقات پر دباؤ ڈالا تھا۔ موجودہ بحالی مکمل معمول کی صورتحال کا اعلان نہیں بلکہ مخصوص ٹرمینلز سے آپریشن دوبارہ شروع ہونے کی پیش رفت ہے، جبکہ سکیورٹی خطرات کی وجہ سے مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔

یمن کے حوثی گروپ اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خطے میں شہری ہوا بازی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ سعودی حکام نے فضائی دفاعی اقدامات جاری رکھنے کا کہا ہے، جبکہ حوثی حملوں کے تسلسل نے ائیرپورٹ آپریشن کے لیے خطرہ برقرار رکھا ہے۔

مسافروں کے لیے عملی صورتحال ائیرلائن، ٹرمینل اور پرواز کے شیڈول کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے پروازوں کی عمومی بحالی کو ہر پرواز کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کنگ خالد ائیرپورٹ کے ٹرمینل ایک اور دو کو اتوار سے ملکی اور بین الاقوامی آپریشن کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔