وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران نئے ٹیکس عائد کیے بغیر نفاذی اقدامات کے ذریعے 800 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد میں کاروباری رہنماؤں اور صنعت کاروں کے ساتھ ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو کے لیے تجاویز طلب کیں اور ٹیکس، تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر مشاورت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنا دینے یا اس میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے توانائی کی لاگت کم کرنے کو حکومت کی ترجیح قرار دیا، کیونکہ بجلی اور دیگر پیداواری اخراجات پاکستانی صنعت کی مسابقت اور برآمدی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اجلاس میں کاروباری ماحول بہتر بنانے اور قواعد و ضوابط کی تعداد و پیچیدگی کم کرنے کے لیے ریگولیٹری ’گلوٹین‘ کے عمل کا بھی ذکر کیا گیا۔
وزیراعظم کا 800 ارب روپے کی ریکوری کا بیان حکومتی دعویٰ ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس رقم کی مکمل مدوار تفصیل یا آزاد آڈٹ پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اسے سرکاری موقف کے طور پر منسوب کرنا ضروری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اضافی محصولات نئے ٹیکسوں کے بجائے موجودہ قوانین کے بہتر نفاذ اور وصولی کے اقدامات سے حاصل ہوئے۔
اجلاس کا مرکزی موضوع برآمدی شعبے کی توسیع، صنعت کو درپیش لاگت اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں اور نجی شعبے سے پالیسی تجاویز لینا تھا۔ وزیراعظم نے طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات کو کاروباری برادری سے مشاورت کے ذریعے آگے بڑھانے پر زور دیا۔ سپر ٹیکس سے متعلق ہدایت بھی فوری استثنا کا حتمی اعلان نہیں بلکہ متعلقہ حکام کو پالیسی کا جائزہ لینے کی ہدایت ہے۔
آئندہ عملی پیش رفت اس بات سے واضح ہوگی کہ وزارت خزانہ، ایف بی آر اور دیگر ادارے برآمد کنندگان کے ٹیکس، توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے بارے میں کیا فیصلے کرتے ہیں۔ فی الحال اجلاس نے حکومت اور کاروباری شعبے کے درمیان پالیسی مشاورت اور برآمدی نمو کو ترجیح دینے کا سیاسی و معاشی رخ واضح کیا ہے۔




