حیدرآباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حیدرآباد میں نئی صنعتی ترقی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ایک نیا صنعتی زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عادل صدیقی کے مطابق شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے لیکن موجودہ سائٹ ایریا کے علاوہ نئی صنعتی زمین اور انفراسٹرکچر تیار نہیں کیا گیا۔

حیدرآباد سائٹ 1952 میں تقریباً 1,264 ایکڑ رقبے پر قائم کی گئی تھی اور رپورٹ کے مطابق یہاں 665 صنعتی یونٹس موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 450 فعال ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے نمائندے نے کہا کہ یہ سندھ کے بڑے صنعتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم کئی دہائیوں کے دوران اس کی گنجائش میں خاطر خواہ توسیع نہیں ہوئی اور بنیادی سہولتوں کے مسائل برقرار ہیں۔

بیان میں سڑکوں کی خستہ حالی، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی علاقوں سے روزانہ بڑی تعداد میں ٹرک اور کنٹینرز گزرتے ہیں، جس کے باعث سڑکوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انفراسٹرکچر کی کمزوری کاروباری لاگت اور صنعتی سرگرمی دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

عادل صدیقی کے مطابق پرانے سائٹ ایریا میں زمین کی تجارتی اور رئیل اسٹیٹ قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے، جس سے نئے سرمایہ کاروں کے لیے صنعتی زمین حاصل کرنا مہنگا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر بڑی سرمایہ کاری کے بعد مشینری، ٹیکنالوجی اور آپریشنز کے لیے سرمایہ محدود رہ جاتا ہے، اس لیے نئے اور نسبتاً کم لاگت صنعتی زون کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے نمائندے نے گزشتہ پانچ برس میں درآمدات پر انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 ٹریلین روپے سے زیادہ وصولی کا حوالہ دیتے ہوئے ان رقوم کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڑک اور نکاسی آب کے کاموں کے لیے 1.10 ارب روپے کی منظوری کے باوجود زمینی سطح پر نمایاں پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

یہ مطالبات ایف پی سی سی آئی کے ایک نمائندے کے بیان پر مبنی ہیں اور نئی صنعتی زون کی منظوری یا فنڈنگ کا سرکاری اعلان نہیں۔ کسی نئے زون کے قیام کے لیے صوبائی اور متعلقہ صنعتی اداروں کی باضابطہ منصوبہ بندی، زمین، مالی وسائل اور منظوری درکار ہوگی۔