وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں اپنی سفارتی مدت مکمل کرنے والے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کی ہے۔ ڈان کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور معاونت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سعودی کردار کو اہم قرار دیا۔ یہ ملاقات سفیر کی سرکاری ذمہ داریوں کے اختتام پر ہوئی اور اس میں دونوں ممالک کے موجودہ تعلقات اور سفیر کی طویل سفارتی خدمات پر گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے نواف بن سعید المالکی کو پاکستان میں ان کی ذمہ داریوں کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے سفیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سعودی سفیر 2017 سے پاکستان میں خدمات انجام دے رہے تھے، اس لیے ان کی مدت کئی برسوں پر پھیلے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی رابطوں کے دور کا احاطہ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور صحت و سلامتی کا پیغام بھی پہنچایا۔ بیان میں کسی نئے معاہدے، مالی پیکیج یا سفارتی پالیسی کی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ملاقات کی مصدقہ پیش رفت سبکدوش سفیر کی خدمات کی تعریف، سعودی قیادت کے لیے خیرسگالی کے پیغام اور دوطرفہ تعلقات جاری رکھنے کے عزم تک محدود ہے۔

سعودی سفیر نے وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی مدت کے دوران گرمجوشی، تعاون اور میزبانی ملی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے پاکستان میں اپنے قیام کو یادگار اور مفید تجربہ قرار دیا اور مستقبل میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے ان کی آئندہ ذمہ داریوں اور مستقبل کے لیے کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔

نواف بن سعید المالکی نے اس سے پہلے صدر آصف علی زرداری سے بھی الوداعی ملاقات کی تھی، جس میں صدر نے دوطرفہ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا تھا۔ انہوں نے 19 اگست کو مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی الوداعی ملاقات کی۔ وزیراعظم سے ہونے والی تازہ ملاقات اسی سفارتی الوداعی سلسلے کا الگ مرحلہ ہے؛ اسے صدر یا دیگر سیاسی رہنماؤں سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کا اعادہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ ہر ملاقات کا میزبان اور سرکاری سطح مختلف تھی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دیرینہ سیاسی رابطے، اقتصادی تعاون، توانائی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط شامل ہیں۔ تاہم اس الوداعی ملاقات سے متعلق جاری بیان نے کسی نئے منصوبے کی رقم، وقت یا عملی شرائط نہیں بتائیں۔ اس لیے خبر کا مرکزی نکتہ سفیر کی مدت کی تکمیل اور ان کی خدمات کی سرکاری سطح پر تعریف ہے۔ کسی آئندہ سفیر کی نامزدگی، تقرری یا ذمہ داریاں اس رپورٹ میں شامل نہیں، اور ایسے کسی فیصلے کا اعلان ہونے تک موجودہ ملاقات سے اس بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک