اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے ان کی اسپتال منتقلی سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی فوری سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی ہے۔ دی نیشن کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق نئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملہ فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عظمیٰ خان نے درخواست میں دعویٰ کیا کہ جیل میں عمران خان کی صحت خراب ہورہی ہے اور انہیں سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، لے جایا گیا۔ انہوں نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ صحت اور عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق درخواست گزار کے دعوے ہیں؛ دستیاب رپورٹ انہیں کسی عدالتی حتمی فیصلے یا آزاد طبی تصدیق کے طور پر پیش نہیں کرتی۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے عدالت سے فوری اور مکمل تعمیل یقینی بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات پر مسلسل عمل نہ ہونا قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ درخواست میں یہ دلیل بھی دی گئی کہ مقدمات مقرر کرنے کی پالیسی توہینِ عدالت کی درخواست کی فوری سماعت میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
دی نیشن کے مطابق فوری سماعت کی ایک سابقہ درخواست 25 اگست کو مسترد ہوئی تھی، لیکن نئی درخواست میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ اسے چیف جسٹس نے مسترد کیا تھا یا نہیں۔ اسی پس منظر میں عظمیٰ خان نے توہینِ عدالت کی اصل درخواست کو جلد مقرر کرنے کی نئی استدعا کی ہے۔
اس مرحلے پر سپریم کورٹ کی جانب سے نئی درخواست پر سماعت مقرر کیے جانے، فریقین کو نوٹس جاری ہونے یا طبی منتقلی کا کوئی نیا حکم سامنے نہیں آیا۔ درخواست دائر ہونا عدالتی منظوری یا دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوتا؛ عدالت ریکارڈ، متعلقہ حکام کے جواب اور قابلِ اطلاق قانونی نکات دیکھنے کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
اردو ہیڈلائنز نے درخواست میں بیان کیے گئے صحت اور عدم تعمیل کے نکات کو عظمیٰ خان کے مؤقف کے طور پر منسوب کیا ہے اور انہیں ثابت شدہ طبی یا عدالتی نتیجہ قرار نہیں دیا۔ براہ راست دیکھی گئی رپورٹ میں شامل تاریخوں، مطلوبہ اسپتال اور درخواست کے مقصد تک خبر کو محدود رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




