اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف شہروں میں طویل لوڈشیڈنگ پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہونے دی جائے۔ یہ ہدایات 11 ستمبر کو بجلی کے لوڈ مینجمنٹ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں دی گئیں، جس میں توانائی، منصوبہ بندی، پٹرولیم اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ خطے کی موجودہ کشیدگی، آبنائے ہرمز میں صورتحال اور آر ایل این جی کی ترسیل میں مشکلات کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار کم ہوئی اور طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑا۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور دستیاب تمام وسائل مؤثر انداز میں استعمال کیے جائیں۔

حکومتی بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ بجلی کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات کے حل کے لیے تمام تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ ان کمیٹیوں میں عوامی نمائندگی بھی شامل ہو اور انہیں ایک ہفتے کے اندر فعال کیا جائے۔ صارفین کو بتایا گیا کہ بجلی کی شکایت کے لیے ہیلپ لائن 118 استعمال کی جا سکتی ہے، جہاں شکایت درج ہونے کے بعد ٹوکن نمبر اور متوقع حل کا وقت فراہم کیا جاتا ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق حالیہ توانائی دباؤ کا ایک اہم سبب درآمدی ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں درآمدی گیس کا حصہ مختلف اوقات میں نمایاں رہتا ہے، اس لیے عالمی یا علاقائی ترسیلی بحران فوری طور پر پیداواری لاگت اور دستیابی کو متاثر کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اسی تناظر میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل انتظامات اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیا۔

اجلاس کے بعد مختلف تقسیم کار اداروں نے بھی بجلی کی بندش کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے منظور شدہ مینٹیننس شٹ ڈاؤن منسوخ کرنے اور کسی بھی طلب و رسد کے فرق کی صورت میں لوڈ مینجمنٹ کو دو گھنٹے کی حد کے اندر رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فنی خرابی، انفرادی صارف کی شکایت یا ٹرانسفارمر کی خرابی کو باقاعدہ لوڈشیڈنگ سے الگ سمجھا جائے گا۔

دو گھنٹے کی حد ایک حکومتی ہدایت ہے؛ اس پر عملی عمل درآمد بجلی کی دستیاب پیداوار، ایندھن کی فراہمی، گرڈ کی صورتحال اور مقامی فنی مسائل پر منحصر رہے گا۔ حکام نے کہا ہے کہ شکایات کے ازالے اور بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔