وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اپنی سفارتی ملاقاتوں میں ایران، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو نمایاں موضوع قرار دیا ہے۔ 28 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ سہ فریقی رابطوں کو اپنے دورے کی اہم مصروفیات میں شمار کیا۔
وزیراعظم کے مطابق ایران کے ساتھ گفتگو میں خطے کی کشیدگی، مذاکرات کے امکانات اور سفارتی راستوں کو فعال رکھنے پر توجہ دی گئی۔ یہ بات ایسے وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال عالمی توانائی منڈی اور علاقائی سلامتی کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم کسی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار متعلقہ فریقوں کے فیصلوں پر ہوگا۔
سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ گفتگو کا ایک اہم محور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی ڈھانچے کی تشکیل تھا۔ رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سعودی اور ترک ہم منصبوں سے الگ ملاقاتیں کیں جن میں معاہدے کے سیکرٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس جیسے ادارہ جاتی انتظامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ان رابطوں میں خطے اور عالمی سطح کے دوسرے سلامتی امور بھی زیر بحث آئے۔
وزیراعظم نے اپنے سفارتی engagements کو کامیاب قرار دیا، لیکن یہ ایک حکومتی سیاسی و سفارتی جائزہ ہے، آزادانہ طور پر ناپا گیا نتیجہ نہیں۔ کسی بھی معاہدے کے اثرات، دفاعی تعاون کی عملی نوعیت اور علاقائی بحرانوں پر اس کے نتائج آنے والے مہینوں میں طے شدہ اقدامات، سرکاری دستاویزات اور شریک ممالک کے عملی فیصلوں سے واضح ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ رابطے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خلیجی خطے میں سکیورٹی خطرات، توانائی کی قیمتوں اور بحری راستوں کی سلامتی براہِ راست اقتصادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی میں علاقائی مکالمے، دفاعی تعاون اور توانائی و تجارتی راستوں کے تحفظ کو اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتیں اسی وسیع سفارتی فریم ورک کا حصہ تھیں، جبکہ ان کے عملی نتائج آئندہ مشترکہ بیانات، معاہدوں اور ادارہ جاتی فیصلوں سے سامنے آئیں گے۔
